سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے
حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے وہ جو چپ چاپ کھڑا ہے ترا کیا لگتا ہے یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے یوں تو ہر چیز سلامت ہے مری دنیا میں اک تعلق ہے کہ جو ٹوٹا ہوا لگتا ہے اے مرے جذب دروں مجھ میں کشش ہے اتنی جو خطا ہوتا ہے وہ تیر بھی آ لگتا ہے جانے میں کون سی پستی میں گرا ہوں شہزادؔ اس قدر دور ہے سورج کہ دیا لگتا ہے
یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا
یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا کرنوں کی طرح جھیل کے سینے میں اتر جا مت بھول کہ اب بھی ہے تری گھات میں صیاد سنتا ہے کوئی پاؤں کی آواز ٹھہر جا مت دیکھ تمنا کی طرف آنکھ اٹھا کر اندھوں کی طرح نور کے دریا سے گزر جا منزل کی طلب اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور رات مسافر سے یہ کہتی ہے کہ گھر جا اتنا تو سمجھ کیا ہے تری راہ میں حائل آہو کی طرح اپنے ہی سائے سے نہ ڈر جا شاید کہ کوئی برہنہ پا ہو ترے پیچھے جاتے ہوئے اس راہ کو کانٹوں سے نہ بھر جا پتھر نہیں آنکھیں تو یہ آنسو ہیں بڑی چیز بھیگے ہوئے پھولوں کی طرح اور نکھر جا یا دشت میں اس بزم کی رونق کو نہ کر یاد یا شہر کی دیوار سے سر پھوڑ کے مر جا اک عمر سے رویا ہوں نہ تڑپا ہوں میں شہزادؔ احساس کا بادل کبھی برسا ہے نہ گرجا