سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو
شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو اس سے کیا فرق پڑے گا ترے دیوانے کو کیا کوئی کھیل ہے بے نام و نشاں ہو جانا ویسے تو شمع بھی تیار ہے جل جانے کو وہ عجب شخص تھا کل جس سے ملاقات ہوئی میں ملا ہوں کسی جانے ہوئے ان جانے کو ایک لمحہ بھی تو بے کار نہیں کٹ سکتا ایک گتھی جو ملی ہے مجھے سلجھانے کو یہ الگ بات کہ اک بوند مقدر میں نہ تھی سر پہ سو بار گھٹا چھائی رہی چھانے کو شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفل سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو
باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر
باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر کس نے شفق پہ مل دیے پھولوں کے رنگ اتار کر شام کو موجۂ ہوا جانب دشت لے اڑے صبح چمن میں آ گئے خاک پہ شب گزار کر سایۂ آفتاب میں برگ و شرر ٹھٹھر گئے برف کہاں سے آ گئی دھوپ کا روپ دھار کر پاس ہی منزل مراد خاک میں تھی چھپی ہوئی راہ میں پا بریدہ لوگ بیٹھ چکے تھے ہار کر آج ترے خیال سے دل کو بہت سکوں ملا ڈوب چلی یہ موج بھی مجھ کو ابھار ابھار کر جلوۂ ماہتاب بھی شعبدۂ خیال ہے رات کے پاس کچھ نہیں صبح کا انتظار کر ولولۂ حیات کے دل میں کئی چراغ تھے وقت نے سب بجھا دیے ایک ہی پھونک مار کر
ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں
ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں جن کو سنانا چاہتا ہوں کب سنتے ہیں اب بھی وہی دن رات ہیں لیکن فرق یہ ہے پہلے بولا کرتے تھے اب سنتے ہیں شک اپنی ہی ذات پہ ہونے لگتا ہے اپنی باتیں دوسروں سے جب سنتے ہیں محفل میں جن کو سننے کی تاب نہ تھی وہ باتیں تنہائی میں اب سنتے ہیں جینا ہم کو ویسے بھی کب آتا تھا بدل گئے ہیں جینے کے ڈھب سنتے ہیں آنکھیں چھو کر دیکھتی ہیں آوازوں کو کان دہائی دیتے ہیں لب سنتے ہیں سنتے ضرور ہیں دنیا والے بھی شہزادؔ کہنے کی خواہش نہ رہے تب سنتے ہیں