شہزاد احمد

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

11 January 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا وہ یوں گیا کہ باد صبا یاد آ گئی احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط وہ اپنے نقش پا تو مٹا کر نہیں گیا گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئی لگتا ہے یوں کہ جیسے وہ آ کر نہیں گیا تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یاد جب تک وہ پتیوں کو جدا کر نہیں گیا رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگی وہ خار و خس میں آگ لگا کر نہیں گیا شہزادؔ یہ گلہ ہی رہا اس کی ذات سے جاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا

— شہزاد احمد

وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو

وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو دل میں رہتا ہے کہاں ڈھونڈنے جاؤں اس کو آج پھر پہلی ملاقات سے آغاز کروں آج پھر دور سے ہی دیکھ کے آؤں اس کو قید کر لوں اسے آنکھوں کے نہاں خانے میں چاہتا ہوں کہ کسی سے نہ ملاؤں اس کو اسے دنیا کی نگاہوں سے کروں میں محفوظ وہ وہاں ہو کہ جہاں دیکھ نہ پاؤں اس کو چلنا چاہے تو رکھے پاؤں مرے سینے پر بیٹھنا چاہے تو آنکھوں پہ بٹھاؤں اس کو وہ مجھے اتنا سبک اتنا سبک لگتا ہے کبھی گر جائے تو پلکوں سے اٹھاؤں اس کو مجھے معلوم ہے آخر کو جدا ہونا ہے لیکن اک بار تو سینے سے لگاؤں اس کو یاد سے اس کی نہیں خالی کوئی بھی لمحہ پھر بھی ڈرتا ہوں کہیں بھول نہ جاؤں اس کو مجھ پہ یہ راز اسی ایک حوالے سے کھلا بات اس کی ہے مگر کیسے بتاؤں اس کو یہ مرا دل مرا دشمن مرا دیوانہ دل چاہتا ہے کہ سبھی زخم دکھاؤں اس کو آج تو دھوپ میں تیزی ہی بہت ہے ورنہ اپنے سائے سے بھی شہزادؔ بچاؤں اس کو

— شہزاد احمد