شہزاد احمد

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

11 January 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

جینے مرنے کے درمیان ایک ساعت

کبھی جینے کبھی مرنے کی خواہش روک لیتی ہے وگرنہ میں ہوا کی لہر میں تحلیل ہو جاؤں کدھر جاؤں کہ ہر سو ساعتیں رستے کا پتھر ہیں اگر بیٹھا رہوں تو راکھ میں تبدیل ہو جاؤں وہ جادوگر تھا جس نے رات پر پہرے بٹھائے تھے وگرنہ اب تلک یہ چاند تارے مٹ چکے ہوتے جنون آگہی مانوس آنکھوں سے چھلک جاتا بساط زندگی کے سارے مہرے پٹ چکے ہوتے مجھے معلوم ہے اک چاند دن کو بھی نکلتا ہے مجھے معلوم ہے راتیں بھی اک خورشید رکھتی ہیں اگر یہ دونوں عالم ایک ہو جائیں تو پھر کیا ہو ہوائیں رات دن یکتائی کی امید رکھتی ہیں مگر ان وسعتوں کو کون بانہوں میں سمیٹے گا کہاں سے آئے گی وہ روشنی جو منتہی ہوگی دلوں کی تیرگی کچھ اور گہری ہوتی جاتی ہے اذیت روشنی کی دن کی رگ رگ نے سہی ہوگی کدھر جاؤں کہ ہر سو راستے کرنوں کی صورت ہیں مگر کرنوں پہ چلنا بے قراری کو نہیں آتا وہ نقطہ جس پہ میں ہوں مرقد شام غریباں ہے مگر اس سمت کوئی آہ و زاری کو نہیں آتا

— شہزاد احمد

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا تیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس تیرے سینے میں رہا شور بہاراں کا خروش اب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس تو نے اک عمر سے بازو بھی نہیں پھیلائے پھر بھی بانہوں کو ہے صدیوں کی تھکن کا احساس تیرے چہرے پہ سکوں کھیل رہا ہے لیکن تیرے سینے میں تو طوفان گرجتے ہوں گے بزم کونین تری آنکھ میں ویران سہی ترے خوابوں کے محلات تو سمجھے ہوں گے گرچہ اب کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا پھر بھی آہٹ پہ ترے کان تو بجتے ہوں گے وقت ہے ناگ ترے جسم کو ڈستا ہوگا یخ کر تجھ کو ہوائیں بھی بپھرتی ہوں گی سب ترے سائے کو آسیب سمجھتے ہوں گے تجھ سے ہم جولیاں کترا کے گزرتی ہوں گی کتنی یادیں ترے اشکوں سے ابھرتی ہوں گی زندگی ہر نئے انداز کو اپناتی ہے یہ فریب اپنے لیے جال نئے بنتا ہے رقص کرتی ہے ترے ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی اور جی کو کوئی روح کی طرح دھنتا ہے لاکھ پردوں میں چھپا شور اذیت لیکن دل ترے دل کے دھڑکنے کی صدا سنتا ہے تیرا غم جاگتا ہے دل کے نہاں خانوں میں تیری آواز سے سینے میں فغاں پیدا ہے تیری آنکھوں کی اداسی مجھے کرتی ہے اداس تیری تنہائی کے احساس سے دل تنہا ہے جاگتی تو ہے تو تھک جاتی ہے آنکھیں میری زخم جلتے ہیں ترے درد مجھے ہوتا ہے

— شہزاد احمد