سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
جینے مرنے کے درمیان ایک ساعت
کبھی جینے کبھی مرنے کی خواہش روک لیتی ہے وگرنہ میں ہوا کی لہر میں تحلیل ہو جاؤں کدھر جاؤں کہ ہر سو ساعتیں رستے کا پتھر ہیں اگر بیٹھا رہوں تو راکھ میں تبدیل ہو جاؤں وہ جادوگر تھا جس نے رات پر پہرے بٹھائے تھے وگرنہ اب تلک یہ چاند تارے مٹ چکے ہوتے جنون آگہی مانوس آنکھوں سے چھلک جاتا بساط زندگی کے سارے مہرے پٹ چکے ہوتے مجھے معلوم ہے اک چاند دن کو بھی نکلتا ہے مجھے معلوم ہے راتیں بھی اک خورشید رکھتی ہیں اگر یہ دونوں عالم ایک ہو جائیں تو پھر کیا ہو ہوائیں رات دن یکتائی کی امید رکھتی ہیں مگر ان وسعتوں کو کون بانہوں میں سمیٹے گا کہاں سے آئے گی وہ روشنی جو منتہی ہوگی دلوں کی تیرگی کچھ اور گہری ہوتی جاتی ہے اذیت روشنی کی دن کی رگ رگ نے سہی ہوگی کدھر جاؤں کہ ہر سو راستے کرنوں کی صورت ہیں مگر کرنوں پہ چلنا بے قراری کو نہیں آتا وہ نقطہ جس پہ میں ہوں مرقد شام غریباں ہے مگر اس سمت کوئی آہ و زاری کو نہیں آتا
جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا
جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا تیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس تیرے سینے میں رہا شور بہاراں کا خروش اب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس تو نے اک عمر سے بازو بھی نہیں پھیلائے پھر بھی بانہوں کو ہے صدیوں کی تھکن کا احساس تیرے چہرے پہ سکوں کھیل رہا ہے لیکن تیرے سینے میں تو طوفان گرجتے ہوں گے بزم کونین تری آنکھ میں ویران سہی ترے خوابوں کے محلات تو سمجھے ہوں گے گرچہ اب کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا پھر بھی آہٹ پہ ترے کان تو بجتے ہوں گے وقت ہے ناگ ترے جسم کو ڈستا ہوگا یخ کر تجھ کو ہوائیں بھی بپھرتی ہوں گی سب ترے سائے کو آسیب سمجھتے ہوں گے تجھ سے ہم جولیاں کترا کے گزرتی ہوں گی کتنی یادیں ترے اشکوں سے ابھرتی ہوں گی زندگی ہر نئے انداز کو اپناتی ہے یہ فریب اپنے لیے جال نئے بنتا ہے رقص کرتی ہے ترے ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی اور جی کو کوئی روح کی طرح دھنتا ہے لاکھ پردوں میں چھپا شور اذیت لیکن دل ترے دل کے دھڑکنے کی صدا سنتا ہے تیرا غم جاگتا ہے دل کے نہاں خانوں میں تیری آواز سے سینے میں فغاں پیدا ہے تیری آنکھوں کی اداسی مجھے کرتی ہے اداس تیری تنہائی کے احساس سے دل تنہا ہے جاگتی تو ہے تو تھک جاتی ہے آنکھیں میری زخم جلتے ہیں ترے درد مجھے ہوتا ہے