شہزاد احمد

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

11 January 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

یادوں کی زنجیریں

اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ایک زمانہ بیت گیا اب میں اپنے جسم کے بکھرے ٹکڑوں کے انبار پہ بیٹھا سوچ رہا ہوں میرا ان سے کیا رشتہ ہے ان کا آپس میں کیا رشتہ ہے کون ہوں میں اور کس تلوار سے میں نے اپنے جسم کے ٹکڑے کاٹے ہیں اب میں کیا ہوں اور اب مجھ کو کیا کرنا ہے میں نے کیا تعمیر کیا تھا چھوٹی چھوٹی یادوں کی زنجیر سے میں نے اپنے انگ انگ کو باندھ لیا تھا اپنے گرد پرانے اور نئے لفظوں کی دیواریں چن لی تھیں اب میرا ان دیواروں سے ان زنجیروں سے کوئی رشتہ باقی ہے تو اتنا ہے جیسے اپنی رہائی کا مجھ کو یقیں نہ ہو میں دیوانہ ہوں اب مجھ سے اتنا فیض کرو یارو میں نے جتنے شعر لکھے ہیں میرے سر پہ دے مارو

— شہزاد احمد

شب غم کو سحر کرنا پڑے گا

شب غم کو سحر کرنا پڑے گا قیامت تک سفر کرنا پڑے گا سوا نیزے پہ سورج آ گیا ہے یہ دن بھی اب بسر کرنا پڑے گا یہ آنکھیں سیپیاں ہیں اس لئے بھی ہر آنسو کو گہر کرنا پڑے گا بہت لوٹا ہے دل کو آگہی نے اسے اب بے خبر کرنا پڑے گا کہاں تک در بدر پھرتے رہیں گے تمہارے دل میں گھر کرنا پڑے گا ستارے کج روی پر آ گئے ہیں جہاں زیر و زبر کرنا پڑے گا محبت کام ہی ایسا ہے شہزادؔ نہ چاہیں گے مگر کرنا پڑے گا

— شہزاد احمد