سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
یادوں کی زنجیریں
اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ایک زمانہ بیت گیا اب میں اپنے جسم کے بکھرے ٹکڑوں کے انبار پہ بیٹھا سوچ رہا ہوں میرا ان سے کیا رشتہ ہے ان کا آپس میں کیا رشتہ ہے کون ہوں میں اور کس تلوار سے میں نے اپنے جسم کے ٹکڑے کاٹے ہیں اب میں کیا ہوں اور اب مجھ کو کیا کرنا ہے میں نے کیا تعمیر کیا تھا چھوٹی چھوٹی یادوں کی زنجیر سے میں نے اپنے انگ انگ کو باندھ لیا تھا اپنے گرد پرانے اور نئے لفظوں کی دیواریں چن لی تھیں اب میرا ان دیواروں سے ان زنجیروں سے کوئی رشتہ باقی ہے تو اتنا ہے جیسے اپنی رہائی کا مجھ کو یقیں نہ ہو میں دیوانہ ہوں اب مجھ سے اتنا فیض کرو یارو میں نے جتنے شعر لکھے ہیں میرے سر پہ دے مارو
شب غم کو سحر کرنا پڑے گا
شب غم کو سحر کرنا پڑے گا قیامت تک سفر کرنا پڑے گا سوا نیزے پہ سورج آ گیا ہے یہ دن بھی اب بسر کرنا پڑے گا یہ آنکھیں سیپیاں ہیں اس لئے بھی ہر آنسو کو گہر کرنا پڑے گا بہت لوٹا ہے دل کو آگہی نے اسے اب بے خبر کرنا پڑے گا کہاں تک در بدر پھرتے رہیں گے تمہارے دل میں گھر کرنا پڑے گا ستارے کج روی پر آ گئے ہیں جہاں زیر و زبر کرنا پڑے گا محبت کام ہی ایسا ہے شہزادؔ نہ چاہیں گے مگر کرنا پڑے گا