شہزاد احمد

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

11 January 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے

تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے عجب نہیں کہ کسی دن یہ پیاس بھی نہ رہے ہر ایک سمت خلا ہی خلا نظر آئیں خرابۂ دل ویراں میں یاس بھی نہ رہے غم فراق کی تلخی وہ دشت ہے کہ جہاں کوئی قریب تو کیا آس پاس بھی نہ رہے ترا خیال ہی پر تول کر اڑا لے جائے کوئی امید شریک حواس بھی نہ رہے تمام رنگ ہے خوشبو تمام خوشبو رنگ گلوں سے رنگ اڑا لیں تو باس بھی نہ رہے لٹا ہے قافلۂ آگہی دوراہے پر زمانہ ساز تو کیا خود شناس بھی نہ رہے کسی طریق سے شہزادؔ دل کو سمجھا لیں نہ مسکرائے مگر یوں اداس بھی نہ رہے

— شہزاد احمد