سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آمنہ نعیم
امل خان
ایم سعید
ڈاکٹر شعیب
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سید جینٹلمین
شہزاد
کریسنٹ
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
نایاب کا پیش کردہ کلام
تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے
تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے عجب نہیں کہ کسی دن یہ پیاس بھی نہ رہے ہر ایک سمت خلا ہی خلا نظر آئیں خرابۂ دل ویراں میں یاس بھی نہ رہے غم فراق کی تلخی وہ دشت ہے کہ جہاں کوئی قریب تو کیا آس پاس بھی نہ رہے ترا خیال ہی پر تول کر اڑا لے جائے کوئی امید شریک حواس بھی نہ رہے تمام رنگ ہے خوشبو تمام خوشبو رنگ گلوں سے رنگ اڑا لیں تو باس بھی نہ رہے لٹا ہے قافلۂ آگہی دوراہے پر زمانہ ساز تو کیا خود شناس بھی نہ رہے کسی طریق سے شہزادؔ دل کو سمجھا لیں نہ مسکرائے مگر یوں اداس بھی نہ رہے