کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

گریس کا پیش کردہ کلام

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو دیوانہ گل قیدئ زنجیر ہیں اور تم کیا ٹھاٹ سے گلشن کی ہوا کھائے چلو ہو مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا تم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارے زلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو وہ شوخ ستم گر تو ستم ڈھائے چلے ہے تم ہو کہ کلیمؔ اپنی غزل گائے چلو ہو

— کلیم عاجز

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ عشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤ یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیں آؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ دل کی بازی لگے پھر جان کی بازی لگ جائے عشق میں ہار کے بیٹھو نہیں ہارے جاؤ کام بن جائے اگر زلف جنوں بن جائے اس لیے اس کو سنوارو کہ سنوارے جاؤ کوئی رستہ کوئی منزل اسے دشوار نہیں جس جگہ چاہو محبت کے سہارے جاؤ ہم تو مٹی سے اگائیں گے محبت کے گلاب تم اگر توڑنے جاتے ہو ستارے جاؤ ڈوبنا ہوگا اگر ڈوبنا تقدیر میں ہے چاہے کشتی پہ رہو چاہے کنارے جاؤ تم ہی سوچو بھلا یہ شوق کوئی شوق ہوا آج اونچائی پہ بیٹھو کل اتارے جاؤ موت سے کھیل کے کرتے ہو محبت عاجزؔ مجھ کو ڈر ہے کہیں بے موت نہ مارے جاؤ

— کلیم عاجز