سپیکرز
گریس کا پیش کردہ کلام
اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو
اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو دیوانہ گل قیدئ زنجیر ہیں اور تم کیا ٹھاٹ سے گلشن کی ہوا کھائے چلو ہو مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا تم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارے زلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو وہ شوخ ستم گر تو ستم ڈھائے چلے ہے تم ہو کہ کلیمؔ اپنی غزل گائے چلو ہو
یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ
یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ عشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤ یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیں آؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ دل کی بازی لگے پھر جان کی بازی لگ جائے عشق میں ہار کے بیٹھو نہیں ہارے جاؤ کام بن جائے اگر زلف جنوں بن جائے اس لیے اس کو سنوارو کہ سنوارے جاؤ کوئی رستہ کوئی منزل اسے دشوار نہیں جس جگہ چاہو محبت کے سہارے جاؤ ہم تو مٹی سے اگائیں گے محبت کے گلاب تم اگر توڑنے جاتے ہو ستارے جاؤ ڈوبنا ہوگا اگر ڈوبنا تقدیر میں ہے چاہے کشتی پہ رہو چاہے کنارے جاؤ تم ہی سوچو بھلا یہ شوق کوئی شوق ہوا آج اونچائی پہ بیٹھو کل اتارے جاؤ موت سے کھیل کے کرتے ہو محبت عاجزؔ مجھ کو ڈر ہے کہیں بے موت نہ مارے جاؤ