سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟
وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟ تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟ تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا؟ کبھی چوٹ تو نے بھی کھائی ہے کبھی تیرا دل بھی دکھا ہے کیا؟ تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا؟ تو جفا میں مست ہے روز و شب میں کفن بہ دوش و غزل بہ لب ترے رعب حسن سے چپ ہیں سب میں بھی چپ رہوں تو مزا ہے کیا؟ یہ کہاں سے آئی ہے سرخ رو ہے ہر ایک جھونکا لہو لہو کٹی جس میں گردن آرزو یہ اسی چمن کی ہوا ہے کیا؟ ابھی تیرا دور شباب ہے ابھی کیا حساب و کتاب ہے ابھی کیا نہ ہوگا جہان میں ابھی اس جہاں میں ہوا ہے کیا؟ یہی ہم نوا یہی ہم سخن یہی ہم نشاں یہی ہم وطن مری شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتا ہے کیا؟
کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے
کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے یہ جہاں آگ اسے دیتا ہے جو پانی مانگے دل بھی گردن بھی ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوں جانے کب کس کا لہو تیری جوانی مانگے توڑیئے مصلحت وقت کی دیواروں کو راہ جس وقت طبیعت کی روانی مانگے مانگنا جرم ہے فن کار سے ترتیب خیال گیسوئے وقت جب آشفتہ بیانی مانگے ساقی تو چاہے تو وہ دور بھی آ سکتا ہے کہ ملے جام شراب اس کو جو پانی مانگے کس کا سینہ ہے جو زخموں سے نہیں ہے معمور کیا کوئی تجھ سے محبت کی نشانی مانگے دل تو دے ہی چکا اب ہے یہ ارادہ اپنا جان بھی دے دوں جو وہ دشمن جانی مانگے ہیں مرے شیشۂ صہبائے سخن میں دونوں نئی مانگے کوئی مجھ سے کہ پرانی مانگے
ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات
ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات کون بیکار یہاں ہے کہ سنے کام کی بات شمع کی طرح کھڑاسوچ رہاہے شاعر صبح کی بات سنائے کہ کہے شام کی بات ہم غریبوں کو توعادت ہے جفاسہنے کی ڈھونڈہی لیتے ہیں تکلیف میں آرام کی بات دھوپ میں خاک اڑالیتے ہیں سائے کیلئے پیاس لگتی ہے تو کرتے ہیں مئے وجام کی بات اب توہرسمت اندھیراہی نظرآتاہے خوب پھیلی ہے تری زلف سیہ فام کی بات صبح کے وقت جو کلیوں نے چٹک کرکہدی بات چھوٹی سی ہے لیکن ہے بڑے کام کی بات کوئی کہدے کہ محبت میں برائی کیاہے یہ نہ توکفر کی ہے بات نہ اسلام کی بات گرچہ احباب نے سرجوڑ کے ڈھونڈاعاجز نہ ملی میری غزل میں روشِ عام کی بات