سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
انتظار حسین
ایم سعید
حمایت اللہ
رابعہ
راجا اکرام قمر
ریبل
زاہد
سجاد علی
سجاد وٹو
سید جینٹلمین
شکیل احمد
صداقت حسین
طارق عزیز
علی نقوی
گریس
محمداسد
مرزا جواد
نگاہ بسمل
زاہد کا پیش کردہ کلام
تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے
تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے یہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میں مگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے سیہ چشمی حسینوں کی تو ویسے بھی قیامت ہے مگر پاس ِ حیا کی سرمگینی اور ہوتی ہے گریز اُس کا بجائے خود ادائے خاص ہے لیکن خمار ِ وصل کی نازآفرینی اور ہوتی ہے نہیں مشروط کار ِ عاشقاں ترک ِ سکونت سے میاں، اہل ِ جنوں کی نامکینی اور ہوتی ہے ہمیں ویسے تو یہ اہل ِ جہاں کیا کچھ نہیں کہتے مگر احباب ِ دل کی نکتہ چینی اور ہوتی ہے