کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

زاہد کا پیش کردہ کلام

تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے

تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے یہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میں مگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے سیہ چشمی حسینوں کی تو ویسے بھی قیامت ہے مگر پاس ِ حیا کی سرمگینی اور ہوتی ہے گریز اُس کا بجائے خود ادائے خاص ہے لیکن خمار ِ وصل کی نازآفرینی اور ہوتی ہے نہیں مشروط کار ِ عاشقاں ترک ِ سکونت سے میاں، اہل ِ جنوں کی نامکینی اور ہوتی ہے ہمیں ویسے تو یہ اہل ِ جہاں کیا کچھ نہیں کہتے مگر احباب ِ دل کی نکتہ چینی اور ہوتی ہے

— عرفان ستار