سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے
تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے ہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہے بیگانہ سمجھو غیر کہو اجنبی کہو اپنوں میں تھا شمار ابھی کل کی بات ہے آج اپنے پاس سے ہمیں رکھتے ہو دور دور ہم بن نہ تھا قرار ابھی کل کی بات ہے اترا رہے ہو آج پہن کر نئی قبا دامن تھا تار تار ابھی کل کی بات ہے آج اس قدر غرور یہ انداز یہ مزاج پھرتے تھے میر خوار ابھی کل کی بات ہے انجان بن کے پوچھتے ہو ہے یہ کب کی بات کل کی ہے بات یار ابھی کل کی بات ہے
امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں ان کی خاطر سے کبھی ہم مسکرا اٹھے تو کیا مسکرا لینے سے دل کا درد کم ہوتا نہیں جو ستم ہم پر ہے اس کی نوعیت کچھ اور ہے ورنہ کس پر آج دنیا میں ستم ہوتا نہیں تم جہاں ہو بزم بھی ہے شمع بھی پروانہ بھی ہم جہاں ہوتے ہیں یہ ساماں بہم ہوتا نہیں رات بھر ہوتی ہیں کیا کیا انجمن آرائیاں شمع کا کوئی شریک صبح غم ہوتا نہیں مانگتا ہے ہم سے ساقی قطرے قطرے کا حساب غیر سے کوئی حساب بیش و کم ہوتا نہیں
جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے ستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے دل پر غم نہ ہوں گے دیدۂ پر نم نہیں ہوں گے اندھیرا ہوگا اس محفل میں جس میں ہم نہیں ہوں گے دلاسے ان کے جو درد آشنائے غم نہیں ہوں گے نمک ہی ہوں گے دل کے زخم پر مرہم نہیں ہوں گے اگر بڑھتا رہا یوں ہی یہ سودائے ستم گاری تمہی رسوا سر بازار ہو گے ہم نہیں ہوں گے جناب شیخ پر افسوس ہے ہم نے تو سمجھا تھا حرم کے رہنے والے ایسے نامحرم نہیں ہوں گے ادھر آؤ تمہاری زلف ہم آراستہ کر دیں جو گیسو ہم سنواریں گے کبھی برہم نہیں ہوں گے اگرچہ عشق میں مرنے کا خطرہ ہی زیادہ ہے مگر مرنے کے ڈر سے مرنے والے کم نہیں ہوں گے
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے لوگ اپنے در و دیوار سے ہوشیار رہیں آج دیوانے کا گھر جانے کو جی چاہے ہے درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے دل کو زخموں کے سوا کچھ نہ دیا پھولوں نے اب تو کانٹوں میں اتر جانے کو جی چاہے ہے چھاؤں وعدوں کی ہے بس دھوکا ہی دھوکا اے دل مت ٹھہر گرچہ ٹھہر جانے کو جی چاہے ہے زندگی میں ہے وہ الجھن کہ پریشاں ہو کر زلف کی طرح بکھر جانے کو جی چاہے ہے قتل کرنے کی ادا بھی حسیں قاتل بھی حسیں نہ بھی مرنا ہو تو مر جانے کو جی چاہے ہے جی یہ چاہے ہے کہ پوچھوں کبھی ان زلفوں سے کیا تمہارا بھی سنور جانے کو جی چاہے ہے رسن و دار ادھر کاکل و رخسار ادھر دل بتا تیرا کدھر جانے کو جی چاہے ہے