کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے

بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے غزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلا سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے کبھی شاعری اس کو کرنی نہ آتی اسی بے وفا کی بدولت کرے ہے چھری پر چھری کھائے جائے ہے کب سے اور اب تک جئے ہے کرامت کرے ہے کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے یہ فتنے جو ہر اک طرف اٹھ رہے ہیں وہی بیٹھا بیٹھا شرارت کرے ہے قبا ایک دن چاک اس کی بھی ہوگی جنوں کب کسی کی رعایت کرے ہے

— کلیم عاجز

تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے

تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے جو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے پئے بغیر کہو تو یہ تشنہ کام کہے وہ راز مے جو صراحی کہے نہ جام کہے نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے کہوں جو برہمن و شیخ سے حقیقت عشق خدا خدا یہ پکارے وہ رام رام کہے میں غم کی راگنی بے وقت بھی اگر چھیڑوں زبان وقت مجھے وقت کا امام کہے

— کلیم عاجز