کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

مرزا جواد کا پیش کردہ کلام

حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے

حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے تپش پتنگوں کو بخش دیں گے لہو چراغوں میں ڈھال دیں گے ہم ان کی محفل میں رہ گئے ہیں تو ان کی محفل سنبھال دیں گے نہ بندۂ عقل و ہوش دیں گے نہ اہل فکر و خیال دیں گے تمہاری زلفوں کو جو درازی تمہارے آشفتہ حال دیں گے یہ عقل والے اسی طرح سے ہمیں فریب کمال دیں گے جنوں کے دامن سے پھول چن کر خرد کے دامن میں ڈال دیں گے ہماری آشفتگی سلامت سلجھ ہی جائے گی زلف دوراں جو پیچ و خم رہ گیا ہے باقی وہ پیچ و خم بھی نکال دیں گے جناب شیخ اپنی فکر کیجے کہ اب یہ فرمان برہمن ہے بتوں کو سجدہ نہیں کرو گے تو بت کدے سے نکال دیں گے

— کلیم عاجز

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ عشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤ یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیں آؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ دل کی بازی لگے پھر جان کی بازی لگ جائے عشق میں ہار کے بیٹھو نہیں ہارے جاؤ کام بن جائے اگر زلف جنوں بن جائے اس لیے اس کو سنوارو کہ سنوارے جاؤ کوئی رستہ کوئی منزل اسے دشوار نہیں جس جگہ چاہو محبت کے سہارے جاؤ ہم تو مٹی سے اگائیں گے محبت کے گلاب تم اگر توڑنے جاتے ہو ستارے جاؤ ڈوبنا ہوگا اگر ڈوبنا تقدیر میں ہے چاہے کشتی پہ رہو چاہے کنارے جاؤ تم ہی سوچو بھلا یہ شوق کوئی شوق ہوا آج اونچائی پہ بیٹھو کل اتارے جاؤ موت سے کھیل کے کرتے ہو محبت عاجزؔ مجھ کو ڈر ہے کہیں بے موت نہ مارے جاؤ

— کلیم عاجز