کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

طارق عزیز کا پیش کردہ کلام

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں زندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاں اس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں ہم گدایان محبت کا یہی سب کچھ ہے گرچہ دنیا یہی کہتی ہے وفا کچھ بھی نہیں یہ نیا طرز کرم ہے ترا اے فصل بہار لے لیا پاس میں جو کچھ تھا دیا کچھ بھی نہیں ہم کو معلوم نہ تھا پہلے یہ آئین جہاں اس کو دیتے ہیں سزا جس کی خطا کچھ بھی نہیں وہی آہیں وہی آنسو کے دو قطرے عاجزؔ کیا تری شاعری میں ان کے سوا کچھ بھی نہیں

— کلیم عاجز