کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے

سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاں آئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے خلوت میں روشنی ہے نہ محفل میں روشنی اہل وفا چراغ وفا لے کہاں گئے بت خانے میں بھی ڈھیر ہیں ٹکڑے حرم میں بھی جام و سبو کہاں تھے اچھالے کہاں گئے آنکھوں سے آنسوؤں کو ملی خاک میں جگہ پالے کہاں گئے تھے نکالے کہاں گئے برباد روزگار ہمارا ہی نام ہے آئیں تماشا دیکھنے والے کہاں گئے چھپتے گئے دلوں میں وہ بن کر غزل کے بول میں ڈھونڈھتا رہا مرے نالے کہاں گئے اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ گرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے

— کلیم عاجز