سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
انتظار حسین
ایم سعید
حمایت اللہ
رابعہ
راجا اکرام قمر
ریبل
زاہد
سجاد علی
سجاد وٹو
سید جینٹلمین
شکیل احمد
صداقت حسین
طارق عزیز
علی نقوی
گریس
محمداسد
مرزا جواد
نگاہ بسمل
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاں آئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے خلوت میں روشنی ہے نہ محفل میں روشنی اہل وفا چراغ وفا لے کہاں گئے بت خانے میں بھی ڈھیر ہیں ٹکڑے حرم میں بھی جام و سبو کہاں تھے اچھالے کہاں گئے آنکھوں سے آنسوؤں کو ملی خاک میں جگہ پالے کہاں گئے تھے نکالے کہاں گئے برباد روزگار ہمارا ہی نام ہے آئیں تماشا دیکھنے والے کہاں گئے چھپتے گئے دلوں میں وہ بن کر غزل کے بول میں ڈھونڈھتا رہا مرے نالے کہاں گئے اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ گرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے