سپیکرز
ریبل کا پیش کردہ کلام
دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا
دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ مختصر سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادئ جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا
تجھ سے ناراض نہیں زندگی
تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں میں جینے کے لئے سوچا ہی نہیں درد سنبھالنے ہوں گے مسکرائیں تو مسکرانے کے قرضے اُتارنے ہوں گے مسکراؤں کبھی تو لگتا ہے جیسے ہونٹوں پہ قرض رکھا ہے زندگی تیرے غم نے ہمیں رشتے نئے سمجھائے ملے جو ہمیں دھوپ میں ملے چھاؤں کے ٹھنڈے سائے آج اگر بھر آئیں ہیں بوندیں برس جائیں گی کل کیا پتہ اِن کے لئے آنکھیں ترس جائیں گی جانے کب گُم ہوا کہاں کھویا ایک آنسو چھپا کے رکھا تھا