کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

ریبل کا پیش کردہ کلام

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ مختصر سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادئ جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا

— کلیم عاجز

تجھ سے ناراض نہیں زندگی

تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں میں جینے کے لئے سوچا ہی نہیں درد سنبھالنے ہوں گے مسکرائیں تو مسکرانے کے قرضے اُتارنے ہوں گے مسکراؤں کبھی تو لگتا ہے جیسے ہونٹوں پہ قرض رکھا ہے زندگی تیرے غم نے ہمیں رشتے نئے سمجھائے ملے جو ہمیں دھوپ میں ملے چھاؤں کے ٹھنڈے سائے آج اگر بھر آئیں ہیں بوندیں برس جائیں گی کل کیا پتہ اِن کے لئے آنکھیں ترس جائیں گی جانے کب گُم ہوا کہاں کھویا ایک آنسو چھپا کے رکھا تھا

— گلزار