سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
انتظار حسین
ایم سعید
حمایت اللہ
رابعہ
راجا اکرام قمر
ریبل
زاہد
سجاد علی
سجاد وٹو
سید جینٹلمین
شکیل احمد
صداقت حسین
طارق عزیز
علی نقوی
گریس
محمداسد
مرزا جواد
نگاہ بسمل
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے
تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے جو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے پئے بغیر کہو تو یہ تشنہ کام کہے وہ راز مے جو صراحی کہے نہ جام کہے نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے کہوں جو برہمن و شیخ سے حقیقت عشق خدا خدا یہ پکارے وہ رام رام کہے میں غم کی راگنی بے وقت بھی اگر چھیڑوں زبان وقت مجھے وقت کا امام کہے
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالم چمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے غزل ہی گنگنانے دو کہ مجھ کو مزاج تلخ گفتاری نہیں ہے چمن میں کیوں چلوں کانٹوں سے بچ کر یہ آئین وفاداری نہیں ہے وہ آئیں قتل کو جس روز چاہیں یہاں کس روز تیاری نہیں ہے