کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے

تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے جو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے پئے بغیر کہو تو یہ تشنہ کام کہے وہ راز مے جو صراحی کہے نہ جام کہے نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے کہوں جو برہمن و شیخ سے حقیقت عشق خدا خدا یہ پکارے وہ رام رام کہے میں غم کی راگنی بے وقت بھی اگر چھیڑوں زبان وقت مجھے وقت کا امام کہے

— کلیم عاجز

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالم چمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے غزل ہی گنگنانے دو کہ مجھ کو مزاج تلخ گفتاری نہیں ہے چمن میں کیوں چلوں کانٹوں سے بچ کر یہ آئین وفاداری نہیں ہے وہ آئیں قتل کو جس روز چاہیں یہاں کس روز تیاری نہیں ہے

— کلیم عاجز