کلیم عاجز

شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)

25 November 2025

19سپیکرز
244لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے بکے ہے دیوانہ ہے دیوانے سے کیا بات کرو ہو

— کلیم عاجز