سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
مری مستی کے افسانے رہیں گے
مری مستی کے افسانے رہیں گے جہاں گردش میں پیمانے رہیں گے نکالے جائیں گے اہل محبت اب اس محفل میں بیگانے رہیں گے یہی انداز مے نوشی رہے گا تو یہ شیشے نہ پیمانے رہیں گے رہے گا سلسلہ دار و رسن کا جہاں دو چار دیوانے رہیں گے جنہیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہے انہی پھولوں کے افسانے رہیں گے خرد زنجیر پہناتی رہے گی جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے
کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے
کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے ہنستا ہے تو ہنستے رہتا ہے روتا ہے تو روتے جاتا ہے نغموں کی ہر اک جا شہرت ہے نالوں کا تمام افسانہ ہے جس باغ میں ہم جا پہنچے ہیں پھولوں نے ہمیں پہچانا ہے سنتے ہیں وفا کے رستے میں منزل نہ مسافر خانہ ہے؟ کیا جانے کہاں تک پہنچے ہیں کیا جانے کہاں تک جانا ہے زنجیر جنوں کا تحفہ ہے، زنجیر سے کیا گبھرانا ہے ہم ہاتھ بڑھائے بیٹھے ہیں پہنا دے جسے پہنانا ہے پہلو میں ہمارے کیسا دل پر تو قیامت بیت گئی مرجھایا ہوا اک غنچہ ہے ٹوٹا ہوا اک پیمانہ ہے
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی لینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بہت تھی ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی گو ترک تعلق میں سہولت بھی بہت تھی لیکن نہ ہوا ہم سے کہ غیرت بھی بہت تھی اس بت کے ستم سہہ کے دکھا ہی دیا ہم نے گو اپنی طبیعت میں بغاوت بھی بہت تھی واقف ہی نہ تھا رمز محبت سے وہ ورنہ دل کے لیے تھوڑی سی عنایت ہی بہت تھی یوں ہی نہیں مشہور زمانہ مرا قاتل اس شخص کو اس فن میں مہارت بھی بہت تھی کیا دور غزل تھا کہ لہو دل میں بہت تھا اور دل کو لہو کرنے کے فرصت بھی بہت تھی ہر شام سناتے تھے حسینوں کو غزل ہم جب مال بہت تھا تو سخاوت بھی بہت تھی بلوا کے ہم عاجزؔ کو پشیماں بھی بہت ہیں کیا کیجیے کم بخت کی شہرت بھی بہت تھی