سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
انتظار حسین
ایم سعید
حمایت اللہ
رابعہ
راجا اکرام قمر
ریبل
زاہد
سجاد علی
سجاد وٹو
سید جینٹلمین
شکیل احمد
صداقت حسین
طارق عزیز
علی نقوی
گریس
محمداسد
مرزا جواد
نگاہ بسمل
شکیل احمد کا پیش کردہ کلام
تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں زندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاں اس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں ہم گدایان محبت کا یہی سب کچھ ہے گرچہ دنیا یہی کہتی ہے وفا کچھ بھی نہیں یہ نیا طرز کرم ہے ترا اے فصل بہار لے لیا پاس میں جو کچھ تھا دیا کچھ بھی نہیں ہم کو معلوم نہ تھا پہلے یہ آئین جہاں اس کو دیتے ہیں سزا جس کی خطا کچھ بھی نہیں وہی آہیں وہی آنسو کے دو قطرے عاجزؔ کیا تری شاعری میں ان کے سوا کچھ بھی نہیں