سپیکرز
فائیٹر کا پیش کردہ کلام
دل کی شیرینی باتوں میں ہوتی تھی
دل کی شیرینی باتوں میں ہوتی تھی پھر تاثیر مناجاتوں میں ہوتی تھی کیا دن تھے جب کنجی خوشی خزانے کی اپنے دھول بھرے ہاتھوں میں ہوتی تھی بچپن میں میٹھی روٹی جیسی خوشبو ماں کی بھید بھری باتوں میں ہوتی تھی کچے رنگوں کا آنچل اور بھیگے خواب کتنی مشکل برساتوں میں ہوتی تھی یاں تو اپنی ذات کے غم میں رہتے ہیں دکھ سے جنگ مضافاتوں میں ہوتی تھی
اپنی چادر کو پرچم کر سکتی ہے
اپنی چادر کو پرچم کر سکتی ہے عورت اک تاریخ رقم کر سکتی ہے ایوانوں سے نکل سکے تو یہ آواز اک عالم درہم برہم کر سکتی ہے چار دواری میں پابند اکیلی سوچ ڈرو کہ قاتل کو محرم کر سکتی ہے زندہ دفنائی گئی عورت کی اک چیخ خاموشی کے ہاتھ قلم کر سکتی ہے وہ جو بیاہی گئی کلام پاک کے ساتھ لکھنے کو پوریں تو قلم کر سکتی ہے گہری کالی رات میں ایک دیے کی لو تاریکی كا دکھ تو کم کر سکتی ہے بچوں کی ننھی منی میٹھی مسکان جینے كا سامان بہم کر سکتی ہے
ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے
ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے یہ دل بھی کیا لکیر کا فقیر ہے،اخیر ہے ہمارے ساتھ حادثہ بھی دفعتا" نہیں ہوا جو ہاتھ میں نصیب کی لکیر ہے،اخیر ہے ہمارے قتل پر ہمیں ہی دوش دے رہے ہیں آپ جناب من جو آپ کا ضمیر ہے،اخیر ہے اسی طرف بھڑک رہی ہے آگ زور شور سے اسی طرف ہی روشنی کثیر ہے، اخیر ہے اسی لیے اسیر ہوں میں سر زمینِ جھنگ کا سنا ہے میں نے جھنگ کی جو ہیر ہے،اخیر ہے ہرا رہے گا عمر بھر جو زخم آپ سے ملا جناب کی کمان میں جو تیر ہے،اخیر ہے بہار نے کیا بھی تو خزاؤں کا بھلا کیا یہ زندگی بھی موت کی سفیر ہے،اخیر ہے چھڑی ہے میر کی غزل سجی ہے بزمِ مے کشاں بنا ہوا ہے جو سماں اخیر ہے،اخیر ہے قریب ہے دلِ حزیں پہ شعر کا نزول ہو کہ رو برو جو حسنِ دلپذیر ہے،اخیر ہے