سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں
سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں سکھی پرندوں کی چہکاریں گیتوں والی بھیجو ناں ایک اک کر کے پنچھی اڑتے جائیں ٹھور ٹھکانوں سے بھوک اڑے کھلیانوں میں رت باجرے والی بھیجو ناں چکنے مکنے آنگن مانگیں روز دعائیں پرندوں کی کبھی تو ان کی دعا سنو اور بھری کنڈالی بھیجو ناں الگنیوں الگنیوں پھیلی رنگ برنگی انگیوں کو لہریں لیتے جسم اور ہنستے مکھ کی لالی بھیجو ناں سکھی رہیں وہ ہاتھ جو ڈلیا بنتے کبھی نہیں تھکتے سندیسہ اس ماں کو جس کی آتما خالی بھیجو ناں بجرے دریا پار خزانے اپنے ڈھو لے جاتے ہیں سر اور تن کی جدا جدا اب کے رکھوالی بھیجو ناں سائیں رات کی رات یہ بستی مقتل کیوں بن جاتی ہے اب جس رات بھی خنجر نکلیں آندھی کالی بھیجو ناں
کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا
جب درد پرانے ہو بیٹھے جب`یاد کا جگنو راکھ ہوا جب آنکھ میں آنسو برف ہوے جب زخم سے دل مانوس ہوا تب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں پھر دل کو دھڑکنا یاد آیا ! جب کرب کی لمبی راہوں میں احساس کے بال سفید ہوے جب آنکھیں 'بے سیلاب ہوئیں جب چاند چڑھا بے دردی کا جب ریت پہ لکھی یادوں کو بے مہر ہوا نے چھین لیا جب 'یاد رتیں' بے داد ہوئیں تب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں!! پھر دل کو دھڑکنا یاد آیا جب آنکھیں کچھ آباد ہوئیں جب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں احساس کا بچپن جاگ پڑا پھرجذبے بے تقویم ہوے! پھر وقت نے کچھ انگڑائی لی پھر سوچ کی قبر سےدھول اڑی پھرپیاس کا برزخ بھول گیا ایک ہجر سےکیا آزاد ہوے؟ سو ہجر نے ایجاد ہوے! پھر اشک میں دریا قید ہوا پھر دھڑکن میں بھونچال پڑے پھر عشق کاجوگی گلیوں میں.. تقدیر کے سانپ اٹھا لایا پھر ہوش کا جنگل سبز ہوا پھر `شوق درینہ جاگ اٹھا. پھر زلف کے تیور شام بنے اس شام میں پھرمہتاب چڑھا پھر ہونٹ کی لرزش , گیت بنی پھر شعر، شعور کا ورد ہوا پھر خون سے لکھے جذبے بھی نیلام ہوۓ پھر درد "زلیخا "بن بیٹھا پھر قرب کا کرب جوان ہوا پھر مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں کچھ ہجر کی نبضیں تیز ہوئیں جب قید کو تازہ عمر ملی اس قیدی عمر کے بختوں نے. اک شامِ سہور سے پوچھ لیا قید ہی رہنا تھا ...تو ہمیں وہ پچھلا ہجر ہی کافی تھا کیوں پچھلے جال کو چھوڑا تھا کس عهد پہ پنجرہ توڑا تھا؟ جب جال تیری کمزوری تھے .. صیّاد کو کیوں بدنام کیا اب سوچ رہا ہوں مدّت سے کیوں مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں؟ کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا...