عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

ارباب خان کا پیش کردہ کلام

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی میری وحشت تری شہرت ہی سہی قطع کیجے نہ تعلق ہم سے کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی عمر ہرچند کہ ہے برق خرام دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی کچھ تو دے اے فلک ناانصاف آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے بے نیازی تری عادت ہی سہی یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

— مرزا غالب