عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں

نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں کہ لالۂ دشت بے شجر ہوں یہ زرد پھولوں کے کنج دیکھو یہاں بھی آؤ کہ میں ادھر ہوں وہ پھول ہے شاخ پر رہے گا میں اس کی خوشبو ہوں در بدر ہوں وہ زندگی کی سزا کا لمحہ اس ایک لمحے کا میں ثمر ہوں مجھے اٹھانے کا حق ہے کس کو کہ اپنی تربت پہ نوحہ گر ہوں وہ کج کلاہوں کی بستیاں ہیں وہاں نہ لے چل میں ننگے سر ہوں

— عشرت آفریں

خون ناحق کی طرح گلیوں میں جب بہتی ہے رات

خون ناحق کی طرح گلیوں میں جب بہتی ہے رات ذرہ ذرہ چیختا ہے اور چپ رہتی ہے رات پارساؤں کے حرم آباد رکھنے کے لئے داشتاؤں کی طرح ہنس ہنس کے دکھ سہتی ہے رات جب کواڑوں سے ہوا سرگوشیاں کرنے لگے تب دیے کی لو سے دھیرے دھیرے کچھ کہتی ہے رات چاند تاروں کے اسی ملبے سے تازہ آفتاب سر اٹھاتا ہے کھنڈر کی طرح جب ڈہتی ہے رات کون دروازے دبے قدموں نکل جاتا ہے دن کون سی دہلیز پر سر رکھ کے سو رہتی ہے رات

— عشرت آفریں

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا اس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا جس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چل وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کر کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا محروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاص کرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے ’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘

— علامہ اقبال