سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں
نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں کہ لالۂ دشت بے شجر ہوں یہ زرد پھولوں کے کنج دیکھو یہاں بھی آؤ کہ میں ادھر ہوں وہ پھول ہے شاخ پر رہے گا میں اس کی خوشبو ہوں در بدر ہوں وہ زندگی کی سزا کا لمحہ اس ایک لمحے کا میں ثمر ہوں مجھے اٹھانے کا حق ہے کس کو کہ اپنی تربت پہ نوحہ گر ہوں وہ کج کلاہوں کی بستیاں ہیں وہاں نہ لے چل میں ننگے سر ہوں
خون ناحق کی طرح گلیوں میں جب بہتی ہے رات
خون ناحق کی طرح گلیوں میں جب بہتی ہے رات ذرہ ذرہ چیختا ہے اور چپ رہتی ہے رات پارساؤں کے حرم آباد رکھنے کے لئے داشتاؤں کی طرح ہنس ہنس کے دکھ سہتی ہے رات جب کواڑوں سے ہوا سرگوشیاں کرنے لگے تب دیے کی لو سے دھیرے دھیرے کچھ کہتی ہے رات چاند تاروں کے اسی ملبے سے تازہ آفتاب سر اٹھاتا ہے کھنڈر کی طرح جب ڈہتی ہے رات کون دروازے دبے قدموں نکل جاتا ہے دن کون سی دہلیز پر سر رکھ کے سو رہتی ہے رات
ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا اس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا جس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چل وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کر کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا محروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاص کرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے ’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘