عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

عبدالقدیر کا پیش کردہ کلام

آنر کلنگ

عورت مرد کی کھیتی ٹھہری مرد کو حق ہے اس کھیتی کو جوتے بوئے فصل اگائے جدھر سے چاہے داخل ہو اور جب جی چاہے آگ لگائے زن زر اور زمین برابر بیچے اور خریدے جائیں گوشت پوست کی زندہ عورت اس زمرے میں کب آتی ہے اور کسی کم بخت کے دل میں جینے کا احساس جو جاگے زندہ دفنا دی جاتی ہے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں ہریالی کے سارے سپنے ہونٹھ بسورے رہ جاتے ہیں

— عشرت آفریں

رہائی

اسیر لوگو اٹھو اور اٹھ کر پہاڑ کاٹو پہاڑ مردہ روایتوں کے پہاڑ اندھی عقیدتوں کے پہاڑ ظالم عداوتوں کے ہمارے جسموں کے قید خانوں میں سیکڑوں بے قرار جسم اور اداس روحیں سسک رہی ہیں وہ زینہ زینہ بھٹک رہی ہیں ہم ان کو آزاد کب کریں گے ہمارا ہونا ہماری ان آنے والی نسلوں کے واسطے ہے ہم ان کے مقروض ہیں جو ہم سے وجود لیں گے نمود لیں گے کٹے ہوئے ایک سر سے لاکھوں سروں کی تخلیق اب کہانی نہیں رہی ہے لہو میں جو شے دھڑک رہی ہے گمک رہی ہے ہزاروں آنکھیں بدن کے خلیوں سے جھانکتی بے قرار آنکھیں یہ کہہ رہی ہیں اسیر لوگوں جو زرد پتھر کے گھر میں یوں بے حسی کی چادر لپیٹ کر سو رہے ہیں ان کو کہو کہ اٹھ کر پہاڑ کاٹیں ہمیں رہائی کی سوچنا ہے

— عشرت آفریں

کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا

کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا میں محبت میں شکایت بھی نہیں کر سکتا ایک اک کر کے پرندوں نے تو ہجرت کر لی پیڑ ہوں پیڑ تو ہجرت بھی نہیں کر سکتا کیا مجھے سانس بھی لینے کی اجازت نہیں ہے کیا میں اک اور محبت بھی نہیں کر سکتا کیا زمانہ ہے کہ اس عہد زیاں میں کوئی شخص اپنے بچوں کو نصیحت بھی نہیں کر سکتا کون سا خوف رگ و پے میں سمایا ہے کہ اب میں برائی کی مذمت بھی نہیں کر سکتا اب کسی اشک کو کیا آنکھ میں رکھا جائے اشک جو غم کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا سامنا ہو تو زباں دل کا نہیں دیتی ساتھ کچھ بتانے کی میں ہمت بھی نہیں کر سکتا سانحہ یہ ہے اسے مجھ سے جدا ہونا ہے اور ستم یہ کہ میں رخصت بھی نہیں کر سکتا

— اشرف یوسفی