سپیکرز
عبدالقدیر کا پیش کردہ کلام
آنر کلنگ
عورت مرد کی کھیتی ٹھہری مرد کو حق ہے اس کھیتی کو جوتے بوئے فصل اگائے جدھر سے چاہے داخل ہو اور جب جی چاہے آگ لگائے زن زر اور زمین برابر بیچے اور خریدے جائیں گوشت پوست کی زندہ عورت اس زمرے میں کب آتی ہے اور کسی کم بخت کے دل میں جینے کا احساس جو جاگے زندہ دفنا دی جاتی ہے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں ہریالی کے سارے سپنے ہونٹھ بسورے رہ جاتے ہیں
رہائی
اسیر لوگو اٹھو اور اٹھ کر پہاڑ کاٹو پہاڑ مردہ روایتوں کے پہاڑ اندھی عقیدتوں کے پہاڑ ظالم عداوتوں کے ہمارے جسموں کے قید خانوں میں سیکڑوں بے قرار جسم اور اداس روحیں سسک رہی ہیں وہ زینہ زینہ بھٹک رہی ہیں ہم ان کو آزاد کب کریں گے ہمارا ہونا ہماری ان آنے والی نسلوں کے واسطے ہے ہم ان کے مقروض ہیں جو ہم سے وجود لیں گے نمود لیں گے کٹے ہوئے ایک سر سے لاکھوں سروں کی تخلیق اب کہانی نہیں رہی ہے لہو میں جو شے دھڑک رہی ہے گمک رہی ہے ہزاروں آنکھیں بدن کے خلیوں سے جھانکتی بے قرار آنکھیں یہ کہہ رہی ہیں اسیر لوگوں جو زرد پتھر کے گھر میں یوں بے حسی کی چادر لپیٹ کر سو رہے ہیں ان کو کہو کہ اٹھ کر پہاڑ کاٹیں ہمیں رہائی کی سوچنا ہے
کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا
کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا میں محبت میں شکایت بھی نہیں کر سکتا ایک اک کر کے پرندوں نے تو ہجرت کر لی پیڑ ہوں پیڑ تو ہجرت بھی نہیں کر سکتا کیا مجھے سانس بھی لینے کی اجازت نہیں ہے کیا میں اک اور محبت بھی نہیں کر سکتا کیا زمانہ ہے کہ اس عہد زیاں میں کوئی شخص اپنے بچوں کو نصیحت بھی نہیں کر سکتا کون سا خوف رگ و پے میں سمایا ہے کہ اب میں برائی کی مذمت بھی نہیں کر سکتا اب کسی اشک کو کیا آنکھ میں رکھا جائے اشک جو غم کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا سامنا ہو تو زباں دل کا نہیں دیتی ساتھ کچھ بتانے کی میں ہمت بھی نہیں کر سکتا سانحہ یہ ہے اسے مجھ سے جدا ہونا ہے اور ستم یہ کہ میں رخصت بھی نہیں کر سکتا