عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

پرانے محلے کا سنسان آنگن

پرانے محلے کا سنسان آنگن مجھے پا کے تھا کتنا حیران آنگن یہ تہذیب کو پاؤں چلنا سکھائیں سمیٹے ہیں صدیوں کے امکان آنگن وہ دیوار سے جھانکتی شوخ آنکھیں وہ پہرے پہ بوڑھا نگہبان آنگن کوئی جست میں پار کرتا ہے چوکھٹ کسی کے لئے اک بیابان آنگن کسی کے لئے پایۂ تخت ہے یہ کسی کے لئے ایک زندان آنگن سنا رفتہ رفتہ کھنڈر ہو رہے ہیں وہ آباد گلیاں وہ گنجان آنگن کدھر جائیں تہذیب کی ہجرتوں میں یہ بوڑھے درخت اور یہ ویران آنگن

— عشرت آفریں

بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں

بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں مگر ہم اب وہ پہلے سے نہیں ہیں وہی بے چین رکھتے ہیں زیادہ ابھی تک حرف جو لکھے نہیں ہیں ہے مٹی سے جڑے رہنا ضروری خلا میں پھول تو کھلتے نہیں ہیں لڑائی لڑ رہے ہیں زندگی سے تھکے تو ہیں مگر ہارے نہیں ہیں یہ دریا خشک ہے ایسا نہیں بس کسی کے سامنے روتے نہیں ہیں سمجھ میں آ گئی جس روز دنیا اسی دن سے تو دنیا کے نہیں ہیں کہ بے ترتیب بھی رہنے دیا کر یہ گھر ہیں آئنہ خانے نہیں ہیں

— عشرت آفریں

آگ پانی میں فروزاں دیکھو

آگ پانی میں فروزاں دیکھو تم بھی اس گھر کا چراغاں دیکھو وحشت خواب گریزاں دیکھو لذت دید کا عنواں دیکھو دیکھ کر ہی تمہیں خوش ہو جاؤں میری آسودگیٔ جاں دیکھو اپنے ہی لمس پہ ہے اس کا گماں میرا عرفاں مرا وجداں دیکھو میں بلندی نہیں پاتال میں ہوں دیکھو پاؤ تو تہہ جاں دیکھو

— عشرت آفریں