سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
پرانے محلے کا سنسان آنگن
پرانے محلے کا سنسان آنگن مجھے پا کے تھا کتنا حیران آنگن یہ تہذیب کو پاؤں چلنا سکھائیں سمیٹے ہیں صدیوں کے امکان آنگن وہ دیوار سے جھانکتی شوخ آنکھیں وہ پہرے پہ بوڑھا نگہبان آنگن کوئی جست میں پار کرتا ہے چوکھٹ کسی کے لئے اک بیابان آنگن کسی کے لئے پایۂ تخت ہے یہ کسی کے لئے ایک زندان آنگن سنا رفتہ رفتہ کھنڈر ہو رہے ہیں وہ آباد گلیاں وہ گنجان آنگن کدھر جائیں تہذیب کی ہجرتوں میں یہ بوڑھے درخت اور یہ ویران آنگن
بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں
بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں مگر ہم اب وہ پہلے سے نہیں ہیں وہی بے چین رکھتے ہیں زیادہ ابھی تک حرف جو لکھے نہیں ہیں ہے مٹی سے جڑے رہنا ضروری خلا میں پھول تو کھلتے نہیں ہیں لڑائی لڑ رہے ہیں زندگی سے تھکے تو ہیں مگر ہارے نہیں ہیں یہ دریا خشک ہے ایسا نہیں بس کسی کے سامنے روتے نہیں ہیں سمجھ میں آ گئی جس روز دنیا اسی دن سے تو دنیا کے نہیں ہیں کہ بے ترتیب بھی رہنے دیا کر یہ گھر ہیں آئنہ خانے نہیں ہیں
آگ پانی میں فروزاں دیکھو
آگ پانی میں فروزاں دیکھو تم بھی اس گھر کا چراغاں دیکھو وحشت خواب گریزاں دیکھو لذت دید کا عنواں دیکھو دیکھ کر ہی تمہیں خوش ہو جاؤں میری آسودگیٔ جاں دیکھو اپنے ہی لمس پہ ہے اس کا گماں میرا عرفاں مرا وجداں دیکھو میں بلندی نہیں پاتال میں ہوں دیکھو پاؤ تو تہہ جاں دیکھو