عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی زخموں کا حساب لکھ رہی تھی پھولوں کی زباں کی شاعرہ تھی کانٹوں سے گلاب لکھ رہی تھی اس پیڑ کے کھوکھلے تنے پر اک عمر کے خواب لکھ رہی تھی آنکھوں سے سوال پڑھ رہی تھی پلکوں سے جواب لکھ رہی تھی ہر بوند شکستہ بام و در پر بارش کا عتاب لکھ رہی تھی اک نسل کے خواب کے لہو سے اک نسل کے خواب لکھ رہی تھی پھولوں میں ڈھلی ہوئی یہ لڑکی پتھر پہ کتاب لکھ رہی تھی

— عشرت آفریں

میٹھی نرم سجیلی دھوپ

میٹھی نرم سجیلی دھوپ ساحل کی چمکیلی دھوپ کب تک مایوں بیٹھے گی ساون کی شرمیلی دھوپ گھٹنوں گھٹنوں دریا کھیت ڈالی ڈالی گیلی دھوپ شوخ پہاڑی دوشیزہ چنچل تیز نکیلی دھوپ پھولوں پھولوں اترے گی اودی نیلی پیلی دھوپ کونپل کونپل پھوٹے گی کومل سرخ رسیلی دھوپ بستی کی ویران فضا اور سیلاب کی سیلی دھوپ پانی لاش وبا انسان بھوکی اور زہریلی دھوپ

— عشرت آفریں