عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

میرے پرکھوں کی پہلی دعا

رات کی کوکھ سے صبح کی ایک ننھی کرن نے جنم یوں لیا شب نے ننھی شفق کی گلابی حسیں مٹھیاں کھول کر کچھ لکیریں پڑھیں اور صبا سے نہ معلوم چپکے سے کیا کہہ دیا یوں کہ شبنم کی آنکھوں سے آنسو بہے اک ستارہ ہنسا چاندنی مسکراتی ہوئی چل پڑی اور نقاہت سے پہلو بدلتے ہوئے چونک کر میری ماں نے بڑے شوق سے کچھ اشارہ کیا آہٹوں اور سرگوشیوں میں کسی نے کہا آہ لڑکی ہے یہ اتنی افسردہ آواز میرے خدا میری پہلی سماعت پہ لکھی گئی میری پہلی ہی سانسوں میں گھولا گیا ان شکستہ سے لہجوں کا زہریلا پن آہ لڑکی ہے لڑکی ہے لڑکی ہے یہ اس کی قسمت کی مانگو دعا اب بھی میری سماعت پہ لکھی ہے وہ میرے پرکھوں کی پہلی دعا

— عشرت آفریں

وہ جو یادوں کی روشنی سی تھی

وہ جو یادوں کی روشنی سی تھی وہ جو آباد اک گلی سی تھی وہ جو اک شہر تھا سمندر سا اور سمندر پہ چاندنی سی تھی وہ جو جنگل تھا اک کواڑوں کا اور جنگل میں زندگی سی تھی وہ جو دیوار پیچھے مکھڑے تھے اور مکھڑوں پہ تازگی سی تھی وہ جو اک باڑھ تھی گلابوں کی وہ جو خوشبو دھلی دھلی سی تھی وہ جو رستے میں ایک کٹیا تھی وہ جو بڑھیا جھکی جھکی سی تھی وہ جو صورت پہ تھا نمک اس کی وہ جو باتوں میں چاشنی سی تھی وہ جو لڑکی تھی اک پہیلی سی وہ پہیلی جو ان کہی سی تھی وہ جو کونے پہ ایک جامن تھا وہ جو ڈالی ہری بھری سی تھی وہ جو لڑکوں کی ایک گارد تھی وہ جو اک فاختہ ڈری سی تھی وہ جو لڑکا تھا اک چھریرا سا اور رنگت بھی سانولی سی تھی نام بھی یاد ہے بتائیں کیا شکل بھی یاد ہے بھلی سی تھی وہ جو اک پیڑ تھا پرانا سا پیڑ اوپر جو اک پری سی تھی وہ جو ویراں سی ایک مسجد تھی وہ جو دیوار اک گری سی تھی شاہ جنات جس میں رہتا تھا ٹیڑھی میڑھی جو اک گلی سی تھی وہ جو بوڑھا تھا سرخ آنکھوں کا وہ جو لڑکی بجھی بجھی سی تھی وہ جو بادل سا ایک پردہ تھا ایک کھڑکی جو ادھ کھلی سی تھی وہ جو کاغذ ملا دلا سا تھا وہ جو چٹھی مڑی تڑی سی تھی وہ جو تھے آنسوؤں سے بگڑے حرف روشنائی اڑی اڑی سی تھی وہ جو آنکھیں تھیں اک ستارہ سی وہ جو اک لو چراغ کی سی تھی رات وہ حال پوچھنے آئے رات میں بھی تھکی تھکی سی تھی میری مٹھی میں ایک کاغذ تھا اور مٹھی بھنچی ہوئی سی تھی پاس خبروں کا ایک ملبہ تھا تھی جو تصویر ادھ جلی سی تھی اک خبر تھی بہت ادھوری سی ایک سرخی کٹی پٹی سی تھی اختلافات نے اجاڑ دیا وہ جو بستی بھری پری سی تھی گھر جلے ہیں ہواؤں کی شہہ پر آتش غم تو بس یوں ہی سی تھی

— عشرت آفریں