سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
کھیلنے کودنے کی عمروں میں
کھیلنے کودنے کی عمروں میں اک نہ اک بھائی ساتھ رہتا ہے نوجوانی میں کھل کے ہنسنے پر خوف رسوائی ساتھ رہتا ہے اور اب عمر ڈھل گئی ہے تو رنج تنہائی ساتھ رہتا ہے وہ اکیلی کبھی نہیں ہوتی
رتجگا
وہ میری زندگی کا سب سے پہلا رتجگا تھا جب قدم رکھا تھا میں نے زندگی کی ساتویں شب میں دسمبر کی اکتیس اور عروج ماہ کی وہ آخر شب تھی کہا جاتا ہے اس شب ساتویں آکاش پر تقدیر کے سچے فرشتے نے ترا بندھن ہمیشہ کے لیے یوں مجھ سے باندھا تھا مرے ماتھے پہ کچھ اپنے قلم سے حرف لکھے تھے مری ماں نے اسی شب آیتوں کے سائے میں تاروں کی چھاؤں میں اکیلا چاند دیکھا تھا چراغاں ہی چراغاں تھا مرے پرکھوں کے ہاتھوں میں قلم تھا ایک چاندی کا زباں پر آیتیں تھیں اور ہتھیلی پر پرانا نقرئی پیالہ مرے ماتھے پہ چاندی کے قلم سے ان بزرگوں نے سنہری حرف لکھا تھا چراغاں ہی چراغاں تھا دسمبر کی اکتیس اور عروج ماہ کی پھر آخری شب ہے مگر امشب فرشتے سو چکے وہ بھی جنہوں نے آسماں پر تیرا بندھن مجھ سے باندھا تھا مرے پرکھوں کو بھی نیند آ گئی کب کی کئی پوچھے انہوں نے میرے ماتھے پر جو اجلے حرف لکھے تھے وہ سارے رنگ کچے تھے وہ سارے حرف جھوٹے تھے میں جب سے آج تک اک رت جگے کی کیفیت میں ہوں اکیلا چاند ہنستا ہے فرشتوں کا لکھا اک حرف آنکھوں میں چمکتا ہے چراغاں ہی چراغاں ہے