عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

کھیلنے کودنے کی عمروں میں

کھیلنے کودنے کی عمروں میں اک نہ اک بھائی ساتھ رہتا ہے نوجوانی میں کھل کے ہنسنے پر خوف رسوائی ساتھ رہتا ہے اور اب عمر ڈھل گئی ہے تو رنج تنہائی ساتھ رہتا ہے وہ اکیلی کبھی نہیں ہوتی

— عشرت آفریں

رتجگا

وہ میری زندگی کا سب سے پہلا رتجگا تھا جب قدم رکھا تھا میں نے زندگی کی ساتویں شب میں دسمبر کی اکتیس اور عروج ماہ کی وہ آخر شب تھی کہا جاتا ہے اس شب ساتویں آکاش پر تقدیر کے سچے فرشتے نے ترا بندھن ہمیشہ کے لیے یوں مجھ سے باندھا تھا مرے ماتھے پہ کچھ اپنے قلم سے حرف لکھے تھے مری ماں نے اسی شب آیتوں کے سائے میں تاروں کی چھاؤں میں اکیلا چاند دیکھا تھا چراغاں ہی چراغاں تھا مرے پرکھوں کے ہاتھوں میں قلم تھا ایک چاندی کا زباں پر آیتیں تھیں اور ہتھیلی پر پرانا نقرئی پیالہ مرے ماتھے پہ چاندی کے قلم سے ان بزرگوں نے سنہری حرف لکھا تھا چراغاں ہی چراغاں تھا دسمبر کی اکتیس اور عروج ماہ کی پھر آخری شب ہے مگر امشب فرشتے سو چکے وہ بھی جنہوں نے آسماں پر تیرا بندھن مجھ سے باندھا تھا مرے پرکھوں کو بھی نیند آ گئی کب کی کئی پوچھے انہوں نے میرے ماتھے پر جو اجلے حرف لکھے تھے وہ سارے رنگ کچے تھے وہ سارے حرف جھوٹے تھے میں جب سے آج تک اک رت جگے کی کیفیت میں ہوں اکیلا چاند ہنستا ہے فرشتوں کا لکھا اک حرف آنکھوں میں چمکتا ہے چراغاں ہی چراغاں ہے

— عشرت آفریں