سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
وحشت سی وحشت ہوتی ہے
وحشت سی وحشت ہوتی ہے زندہ ہوں حیرت ہوتی ہے جل بجھنے والوں سے پوچھو غم کی کیا حدت ہوتی ہے رہن نہ رکھ دینا بینائی اس کی بھی مدت ہوتی ہے سارے قرض چکا دینے کی کبھی کبھی عجلت ہوتی ہے دل اور جان کے سودے جو ہیں ان میں کب حجت ہوتی ہے خود سے جھوٹ کہاں تک بولیں تھوڑی سی خفت ہوتی ہے اپنے آپ سے ملنے میں بھی اب کتنی دقت ہوتی ہے خود سے باتیں کرنے کی بھی اب کس کو فرصت ہوتی ہے کچھ کہہ لو روکھی سوکھی میں اپنے ہاں برکت ہوتی ہے سونا سی مٹی کے گھر میں کب ہم سے محنت ہوتی ہے دھان ہمارے چڑیا کھائیں چڑیوں کو عادت ہوتی ہوتی ہے بچوں سے کیا شکوہ کرنا مٹی میں الفت ہوتی ہے سبز کواڑوں کی جھریوں میں جگنو یا حیرت ہوتی ہے ٹاٹ کے مٹ میلے پردوں میں کیا اجلی رنگت ہوتی ہے پھٹی پرانی سی چنری میں کیا بھولی صورت ہوتی ہے چاول کی پیلی روٹی میں کیا سوندھی لذت ہوتی ہے رلی کے ایک اک ٹانکے میں پوروں کی چاہت ہوتی ہے جاڑے اوڑھ کے سو جانے میں کب کوئی زحمت ہوتی ہے شام کو تیرا ہنس کر ملنا دن بھر کی اجرت ہوتی ہے
بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ
بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ خون اگلتے سوکھے چٹخے پیلے ہونٹ ٹوٹی چوڑی ٹھنڈی لڑکی باغی عمر سبز بدن پتھرائی آنکھیں نیلے ہونٹ سونا آنگن تنہا عورت لمبی عمر خالی آنکھیں بھیگا آنچل گیلے ہونٹ کچے کچے لفظوں کا یہ نیلا زہر چھو جائے تو مورکھ تو بھی چھیلے ہونٹ زہر ہی مانگیں امرت رس کو منہ نہ لگائیں باغی ضدی وحشی اور ہٹیلے ہونٹ ایسی بنجر باتیں ایسے کڑوے بول ایسے سندر کومل سرخ رسیلے ہونٹ اتنا بولو گی تو کیا سوچیں گے لوگ رسم یہاں کی یہ ہے لڑکی سی لے ہونٹ