عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

وحشت سی وحشت ہوتی ہے

وحشت سی وحشت ہوتی ہے زندہ ہوں حیرت ہوتی ہے جل بجھنے والوں سے پوچھو غم کی کیا حدت ہوتی ہے رہن نہ رکھ دینا بینائی اس کی بھی مدت ہوتی ہے سارے قرض چکا دینے کی کبھی کبھی عجلت ہوتی ہے دل اور جان کے سودے جو ہیں ان میں کب حجت ہوتی ہے خود سے جھوٹ کہاں تک بولیں تھوڑی سی خفت ہوتی ہے اپنے آپ سے ملنے میں بھی اب کتنی دقت ہوتی ہے خود سے باتیں کرنے کی بھی اب کس کو فرصت ہوتی ہے کچھ کہہ لو روکھی سوکھی میں اپنے ہاں برکت ہوتی ہے سونا سی مٹی کے گھر میں کب ہم سے محنت ہوتی ہے دھان ہمارے چڑیا کھائیں چڑیوں کو عادت ہوتی ہوتی ہے بچوں سے کیا شکوہ کرنا مٹی میں الفت ہوتی ہے سبز کواڑوں کی جھریوں میں جگنو یا حیرت ہوتی ہے ٹاٹ کے مٹ میلے پردوں میں کیا اجلی رنگت ہوتی ہے پھٹی پرانی سی چنری میں کیا بھولی صورت ہوتی ہے چاول کی پیلی روٹی میں کیا سوندھی لذت ہوتی ہے رلی کے ایک اک ٹانکے میں پوروں کی چاہت ہوتی ہے جاڑے اوڑھ کے سو جانے میں کب کوئی زحمت ہوتی ہے شام کو تیرا ہنس کر ملنا دن بھر کی اجرت ہوتی ہے

— عشرت آفریں

بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ

بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ خون اگلتے سوکھے چٹخے پیلے ہونٹ ٹوٹی چوڑی ٹھنڈی لڑکی باغی عمر سبز بدن پتھرائی آنکھیں نیلے ہونٹ سونا آنگن تنہا عورت لمبی عمر خالی آنکھیں بھیگا آنچل گیلے ہونٹ کچے کچے لفظوں کا یہ نیلا زہر چھو جائے تو مورکھ تو بھی چھیلے ہونٹ زہر ہی مانگیں امرت رس کو منہ نہ لگائیں باغی ضدی وحشی اور ہٹیلے ہونٹ ایسی بنجر باتیں ایسے کڑوے بول ایسے سندر کومل سرخ رسیلے ہونٹ اتنا بولو گی تو کیا سوچیں گے لوگ رسم یہاں کی یہ ہے لڑکی سی لے ہونٹ

— عشرت آفریں