عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے

دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے لوگ اس کی تصویریں دیکھنے آتے تھے اس بستی میں مجھ کو بھی لے جانا تھا جس بستی میں چاند بدن گہناتے تھے اس کیاری میں میری تیری آنکھیں تھیں جس کیاری میں تارے بوئے جاتے تھے پھول کٹورا پانی آنکھیں اور دیے لوگ کہیں ویرانے میں رکھ آتے تھے

— عشرت آفریں

شہر پر رات کا شباب اترے

شہر پر رات کا شباب اترے مجھ پہ تنہائی کا عذاب اترے آنکھیں برسیں تو ٹوٹ کر برسیں دھوپ اترے تو بے حساب اترے ہم نئی فکر کے پیمبر ہیں ہم پہ بھی اک نئی کتاب اترے پسلیوں کے نحیف نیزوں پر بھوک کے زرد آفتاب اترے خوب تھا اہتمام دار و رسن ہم وہاں سے بھی کامیاب اترے شہر بہرا ہے لوگ پتھر ہیں اب کے کس طور انقلاب اترے آفریںؔ شعر وہ تو جھوٹے تھے اب صداقت کا کوئی باب اترے

— عشرت آفریں

کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!

کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم! بے محل بِگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاج مَیں پھٹکتا ہُوں تو چھَلنی کو بُرا لگتا ہے کیوں ہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تُو چھَلنی، مَیں چھاج میرے سودائے مُلوکیّت کو ٹھُکراتے ہو تم تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زُجاج؟ یہ عجائب شعبدے کس کی مُلوکیّت کے ہیں راجدھانی ہے، مگر باقی نہ راجا ہے نہ راج آلِ سِیزر چوبِ نَے کی آبیاری میں رہے اور تم دُنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج! تم نے لُوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام تم نے لُوٹی کِشتِ دہقاں، تم نے لُوٹے تخت و تاج پردۂ تہذیب میں غارت گری، آدم کُشی کل رَوا رکھّی تھی تم نے، مَیں رَوا رکھتا ہوں آج!

— علامہ اقبال