سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے
دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے لوگ اس کی تصویریں دیکھنے آتے تھے اس بستی میں مجھ کو بھی لے جانا تھا جس بستی میں چاند بدن گہناتے تھے اس کیاری میں میری تیری آنکھیں تھیں جس کیاری میں تارے بوئے جاتے تھے پھول کٹورا پانی آنکھیں اور دیے لوگ کہیں ویرانے میں رکھ آتے تھے
شہر پر رات کا شباب اترے
شہر پر رات کا شباب اترے مجھ پہ تنہائی کا عذاب اترے آنکھیں برسیں تو ٹوٹ کر برسیں دھوپ اترے تو بے حساب اترے ہم نئی فکر کے پیمبر ہیں ہم پہ بھی اک نئی کتاب اترے پسلیوں کے نحیف نیزوں پر بھوک کے زرد آفتاب اترے خوب تھا اہتمام دار و رسن ہم وہاں سے بھی کامیاب اترے شہر بہرا ہے لوگ پتھر ہیں اب کے کس طور انقلاب اترے آفریںؔ شعر وہ تو جھوٹے تھے اب صداقت کا کوئی باب اترے
کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!
کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم! بے محل بِگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاج مَیں پھٹکتا ہُوں تو چھَلنی کو بُرا لگتا ہے کیوں ہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تُو چھَلنی، مَیں چھاج میرے سودائے مُلوکیّت کو ٹھُکراتے ہو تم تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زُجاج؟ یہ عجائب شعبدے کس کی مُلوکیّت کے ہیں راجدھانی ہے، مگر باقی نہ راجا ہے نہ راج آلِ سِیزر چوبِ نَے کی آبیاری میں رہے اور تم دُنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج! تم نے لُوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام تم نے لُوٹی کِشتِ دہقاں، تم نے لُوٹے تخت و تاج پردۂ تہذیب میں غارت گری، آدم کُشی کل رَوا رکھّی تھی تم نے، مَیں رَوا رکھتا ہوں آج!