فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا یہ سیٹوں کی تقاطع اور یونین کچھ بتا دو نا یہ قالب اور الجبرا یہ کیسے لاگ لیتے ہو جمع تفریق اور تقسیم ضربیں کیسے دیتے ہو کسی طرح مجھے بھی اُم سائنس سے ملا دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھا دو نا یہاں پہ مستقل کیا ہے تغیر کس کو کہتے ہیں تغیر کی بغل میں عددی سر کیوں چپکے رہتے ہیں بڑی پُھرتی سے تم جو mod, median, mean لیتے ہو سوالوں سے جوابوں کے خزانے چھین لیتے ہو یہ ناطق غیر ناطق سے جدا کر کے دِکھا دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا اِسے اہلِ ادب نے خشک تر مضمون بولا ہے جو اس سے دل لگا بیٹھا، اُسے مجنوں بولا ہے کہا میں نے ریاضی کا بہت دشمن زمانہ ہے ریاضی اِک تخیّل ہے یہ شاعر کا فسانہ ہے کہا اُس نے کہ کچھ مصرعے میرے شاعر سنا دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا ہزاروں سال پہلے جبکہ پتھّر کا زمانہ تھا وہاں موجود نہ کوئی بھی گِنتی کا پیمانہ تھا زُلیخا تھی نہ یُوسُف تھا، نہ اہرامِ مِصٙر کوئی پتھر سے توازن تھا جو گِنتی تھی اگر کوئی کہا اُس نے کئی صدیاں ریاضی کی پیدائش پرلگادونا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا ابھی جاناں بتانے کو جذر مجذور باقی ہیں کئی بلین ستاروں کے جہاں مفرور باقی ہیں ابھی تو ابنِ مریم چُھپ کے بیٹھے تھے گلابوں میں مگر سُن۔لو کہ اِہلِ مصر ماہِر تھے حسابوں میں بہت تاریخ گہری ہے، ٹریلر ہی دکھا دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا "بٙراہم گُپت" کی ایجاد اِک تا نٙو و زیرو ہے یہاں تو ارشمیدس ایریا ، حجِّم کا ہیرو ہے ابھی الخوارزمی آ کر جو الجبرا نکالے گا زمانے بھر کے سب نالائقوں سے بددعا لے گا جو مشکل ہے یہ الجبرا تو کچھ آساں پڑھا دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا کلائی پر تِری جاناں جو کنگن کھنکھناتے ہیں یہی کنگن ریاضی کے بڑے سرکل بناتے ہیں تِری زُلفوں کے بل تیری کمر کے ساتھ بنتے ہیں جو گیلی ہوں تو دلکش پیرابولِک پاتھ بنتے ہیں مِری زُلفوں سے جو کُچھ بھی بنانا ہے بنا دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا تِری آنکھوں میں بھی اِس علمِ فطرت کا اثاثہ ہے اے میرے دلربا اِن میں سفیّئر اِک شناسا ہے جو اِک موصول مجھ سے پھول تم نے جان پایا تھا وہی اینگل محبت کا نگاہوں نے بنایا تھ نا معلوم

— نا معلوم