فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں

مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں ماضی بھی کبھی دل میں نہ چبھا آئندہ کا سوچا بھی نہیں وہ میرے ہونٹ پہ لکھا ہے جو حرف مکمل ہو نہ سکا وہ میری آنکھ میں بستا ہے جو خواب کبھی دیکھا بھی نہیں چلتے چلتے کچھ تھم جانا پھر بوجھل قدموں سے چلنا یہ کیسی کسک سی باقی ہے جب پاؤں میں وہ کانٹا بھی نہیں دھندلائی ہوئی شاموں میں کوئی پرچھائیں سی پھرتی رہتی ہے میں آہٹ سنتی ہوں جس کی وہ وہم نہیں سایہ بھی نہیں تزئین لب و گیسو کیسی پندار کا شیشہ ٹوٹ گیا تھی جس کے لئے سب آرائش اس نے تو ہمیں دیکھا بھی نہیں

— فہمیدہ ریاض

پتھر سے وصال مانگتی ہوں

پتھر سے وصال مانگتی ہوں میں آدمیوں سے کٹ گئی ہوں شاید پاؤں سراغ الفت مٹھی میں خاک بھر رہی ہوں ہر لمس ہے جب تپش سے عاری کسی آنچ سے یوں پگھل رہی ہوں وہ خواہش بوسہ بھی نہیں اب حیرت سے ہونٹ کاٹتی ہوں اک طفلک جستجو ہوں شاید میں اپنے بدن سے کھیلتی ہوں اب طبع کسی پہ کیوں ہو راغب انسانوں کو برت چکی ہوں

— فہمیدہ ریاض