فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

انقلابی عورت

رن بھومی میں لڑتے لڑتے میں نے کتنے سال اک دن جل میں چھایا دیکھی چٹے ہو گئے بال پاپڑ جیسی ہوئیں ہڈیاں جلنے لگے ہیں دانت جگہ جگہ جھریوں سے بھر گئی سارے تن کی کھال دیکھ کے اپنا حال ہوا پھر اس کو بہت ملال ارے میں بڑھیا ہو جاؤں گی آیا نہ تھا خیال اس نے سوچا گر پھر سے مل جائے جوانی جس کو لکھتے ہیں دیوانی اور مستانی جس میں اس نے انقلاب لانے کی ٹھانی وہی جوانی اب کی بار نہیں دوں گی کوئی قربانی بس لاحول پڑھوں گی اور نہیں دوں گی کوئی قربانی دل نے کہا کس سوچ میں ہے اے پاگل بڑھیا کہاں جوانی یعنی اس کو گزرے اب تک کافی عرصہ بیت چکا ہے یہ خیال بھی دیر سے آیا بس اب گھر جا بڑھیا نے کب اس کی مانی حالانکہ اب وہ ہے نانی ظاہر ہے اب اور وہ کر بھی کیا سکتی تھی آسمان پر لیکن تارے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے رات کے پنچھی بول رہے تھے اور کہتے تھے یہ شاید اس کی عادت ہے یا شاید اس کی فطرت ہے

— فہمیدہ ریاض

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

کہو تو لوٹ جاتے ہیں! ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی ابھی مسکانوں کی نوبت بھی، نالوں تک نہیں آئی ابھی تو کوئی مجبوری، خیالوں تک نہیں آئی ابھی تو گرد پیروں تک ہے، بالوں تک نہیں آئی کہو تو لوٹ جاتے ہیں چلو اک فیصلہ کرنے، شجر کی اور جاتے ہیں ابھی کاجل کی ڈوری۔ سرخ گالوں تک نہیں آئی زباں دانتوں تلک ہے، زہر پیالوں تک نہیں آئی ابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی ابھی روداد بے عنواں ہمارے درمیاں ہے دنیا والوں تک نہیں آئی کہو تو لوٹ جاتے ہیں ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نور ہے اپنی کہو تو لوٹ جاتے ہیں یہ رستہ پیار کا رستہ رسن کا دار کا رستہ بہت دشوار ہے جاناں۔ ۔ ۔ ۔ کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناں کہو تو لوٹ جاتے ہیں میرے بارے نہ کچھ سوچو مجھے طے کرنا آتا ہے رسن کا، دار کا رستہ یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھی غار کا رستہ تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہوگر میرے ہاتھوں میں تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں تمہارا قرب ہو تو، مشکلیں کافور ہو جائیں یہ اندھے اور کالے راستے پر نور ہو جائیں تمہارے گیسووں کی چھاوں مل جائے تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے اٹھا لو اپنا سایہ تو، میری اوقات ہی کیا ہے؟ میرے بارے نہ کچھ سوچو، تم اپنی بات بتلاو کہو ! تو چلتے رہتے ہیں کہو !! تو لوٹ جاتے ہیں !!

— امجد اسلام امجد