سپیکرز
آزاد کا پیش کردہ کلام
انقلابی عورت
رن بھومی میں لڑتے لڑتے میں نے کتنے سال اک دن جل میں چھایا دیکھی چٹے ہو گئے بال پاپڑ جیسی ہوئیں ہڈیاں جلنے لگے ہیں دانت جگہ جگہ جھریوں سے بھر گئی سارے تن کی کھال دیکھ کے اپنا حال ہوا پھر اس کو بہت ملال ارے میں بڑھیا ہو جاؤں گی آیا نہ تھا خیال اس نے سوچا گر پھر سے مل جائے جوانی جس کو لکھتے ہیں دیوانی اور مستانی جس میں اس نے انقلاب لانے کی ٹھانی وہی جوانی اب کی بار نہیں دوں گی کوئی قربانی بس لاحول پڑھوں گی اور نہیں دوں گی کوئی قربانی دل نے کہا کس سوچ میں ہے اے پاگل بڑھیا کہاں جوانی یعنی اس کو گزرے اب تک کافی عرصہ بیت چکا ہے یہ خیال بھی دیر سے آیا بس اب گھر جا بڑھیا نے کب اس کی مانی حالانکہ اب وہ ہے نانی ظاہر ہے اب اور وہ کر بھی کیا سکتی تھی آسمان پر لیکن تارے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے رات کے پنچھی بول رہے تھے اور کہتے تھے یہ شاید اس کی عادت ہے یا شاید اس کی فطرت ہے
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں! ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی ابھی مسکانوں کی نوبت بھی، نالوں تک نہیں آئی ابھی تو کوئی مجبوری، خیالوں تک نہیں آئی ابھی تو گرد پیروں تک ہے، بالوں تک نہیں آئی کہو تو لوٹ جاتے ہیں چلو اک فیصلہ کرنے، شجر کی اور جاتے ہیں ابھی کاجل کی ڈوری۔ سرخ گالوں تک نہیں آئی زباں دانتوں تلک ہے، زہر پیالوں تک نہیں آئی ابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی ابھی روداد بے عنواں ہمارے درمیاں ہے دنیا والوں تک نہیں آئی کہو تو لوٹ جاتے ہیں ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نور ہے اپنی کہو تو لوٹ جاتے ہیں یہ رستہ پیار کا رستہ رسن کا دار کا رستہ بہت دشوار ہے جاناں۔ ۔ ۔ ۔ کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناں کہو تو لوٹ جاتے ہیں میرے بارے نہ کچھ سوچو مجھے طے کرنا آتا ہے رسن کا، دار کا رستہ یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھی غار کا رستہ تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہوگر میرے ہاتھوں میں تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں تمہارا قرب ہو تو، مشکلیں کافور ہو جائیں یہ اندھے اور کالے راستے پر نور ہو جائیں تمہارے گیسووں کی چھاوں مل جائے تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے اٹھا لو اپنا سایہ تو، میری اوقات ہی کیا ہے؟ میرے بارے نہ کچھ سوچو، تم اپنی بات بتلاو کہو ! تو چلتے رہتے ہیں کہو !! تو لوٹ جاتے ہیں !!