سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں کسی آسیب کا سایہ ہے یہاں کوئی آواز سی ہے مرثیہ خواں شہر کا شہر بنا گورستاں ایک مخلوق جو بستی ہے یہاں جس پہ انساں کا گزرتا ہے گماں خود تو ساکت ہے مثال تصویر جنبش غیر سے ہے رقص کناں کوئی چہرہ نہیں جز زیر نقاب نہ کوئی جسم ہے جز بے دل و جاں علما ہیں دشمن فہم و تحقیق کودنی شیوۂ دانش منداں شاعر قوم پہ بن آئی ہے کذب کیسے ہو تصوف میں نہاں لب ہیں مصروف قصیدہ گوئی اور آنکھوں میں ہے ذلت عریاں سبز خط عاقبت و دیں کے اسیر پارسا خوش تن و نو خیز جواں یہ زن نغمہ گر و عشق شعار یاس و حسرت سے ہوئی ہے حیراں کس سے اب آرزوئے وصل کریں اس خرابے میں کوئی مرد کہاں
کچھ لوگ
دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیں لیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں ایسے ہی سفر کرتے کرتے اک شخص ملا ہم کو بھی کہیں دنیا میں اچھے لوگ بہت لیکن اس کی سی بات نہیں وہ دھیمے لہجے والا تھا اور دھیرے سے ہنستا تھا جتنے بھی لوگ ملے ہم کو سچ جانو سب سے اچھا تھا تھی لاگ نہ اس کے بولوں میں کی بات نہ کوئی لگاوٹ کی اس کے فقرے ٹوٹے ٹوٹے اس کی آنکھیں کھوئی کھوئی کہہ کر ہی نہ دے جو ہم چاہیں سوچا ہی کرے بیٹھا بیٹھا پر دیکھے ایسی نرمی سے اک بار تو ہو جائے دھوکا گو ساتھ ہمارا خوب رہا اس کو نہ ہوئی پہچان بہت گر بوجھ لے دل کی بات کبھی ہو جاتا تھا حیران بہت اور ہم اس کی حیرانی پر شرمندہ ہو کر رہ جاتے کچھ اور ہمارا مطلب تھا پھر دیر تلک یہ سمجھاتے اب چہرہ اس کا اجلا ہو یا آنکھیں اس کی ہوں گہری یا اس کے پیارے ہونٹوں کی ہر بات لگے ٹھہریःٹھہری کچھ اچھے لوگ جو اچھے ہوتے ہیں اور راہوں میں مل جاتے ہیں ہیں ان کو اپنے کام بہت کب اپنا وقت گنواتے ہیں کب پیاسے پیاسے رہتے ہیں کب جی کو روگ لگاتے ہیں