فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے خالی جھولی لئے ویران شجر بچتا ہے نکتہ چیں شوق سے دن رات مرے عیب نکال کیونکہ جب عیب نکل جائیں ہنر بچتا ہے سارے ڈر بس اسی ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار یار کھو جائے تو پھر کون سا ڈر بچتا ہے روز پتھراؤ بہت کرتے ہیں دنیا والے روز مر مر کے مرا خواب نگر بچتا ہے غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اسے طے کرنے کے باد صبح دم دیکھیں تو اتنا ہی سفر بچتا ہے بس یہی سوچ کے آیا ہوں تری چوکھٹ پر در بدر ہونے کے بعد اک یہی در بچتا ہے اب مرے عیب زدہ شہر کے شر سے صاحب شاذ و نادر ہی کوئی اہل ہنر بچتا ہے عشق وہ علم ریاضی ہے کہ جس میں فارس دو سے جب ایک نکالیں تو صفر بچتا ہے

— رحمان فارس