سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
پیر ارشد
حسن شبیر
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
خواجہ اشرف
راجا اکرام قمر
سید جینٹلمین
ظفر نقوی
عباس نقوی
علی
مرزا جواد
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا پھر ہم ہیں نیم شب ہے اندیشۂ عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا
مہمان
اس کو اک دن تو جانا تھا مجھ سے کیا رشتہ کیا ناتا بس پل دو پل کو ٹھہرا تھا پل دو پل ہنستے گزرا تھا میں تب بھی سوچا کرتی تھی یہ ساتھ بڑا لمحاتی ہے جذبے کی تھوڑی سی گرمی جلتے چھالے بن جاتی ہے اس بات کو بیتے سال ہوئے پھر دنیا ہے پہلے جیسی سب رنگ وہی رعنائی وہی سب حسن وہی پر کیا کیجے سچے تھے مرے سب اندیشے اب بھی یوں ہی بیٹھے بیٹھے یاد آئے تو دل دکھ جاتا ہے