فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا پھر ہم ہیں نیم شب ہے اندیشۂ عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا

— فہمیدہ ریاض

مہمان

اس کو اک دن تو جانا تھا مجھ سے کیا رشتہ کیا ناتا بس پل دو پل کو ٹھہرا تھا پل دو پل ہنستے گزرا تھا میں تب بھی سوچا کرتی تھی یہ ساتھ بڑا لمحاتی ہے جذبے کی تھوڑی سی گرمی جلتے چھالے بن جاتی ہے اس بات کو بیتے سال ہوئے پھر دنیا ہے پہلے جیسی سب رنگ وہی رعنائی وہی سب حسن وہی پر کیا کیجے سچے تھے مرے سب اندیشے اب بھی یوں ہی بیٹھے بیٹھے یاد آئے تو دل دکھ جاتا ہے

— فہمیدہ ریاض