سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سو بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انہیں بھلا دو سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو اچھا تو کوئی اور بھی تھی اچھا پھر بات کہاں نکلی کچھ اور بھی یادیں بچپن کی کچھ اپنے گھر کے آنگن کی سب بتلا دو پھر سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی یہ جھلمل کرتی خاموشی یہ ڈھلتی رات ستاروں کی بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
یہ زرد موسم کے خشک پتے
یہ زرد موسم کے خشک پتے ہوا جنہیں لے گئی اڑا کر اگر کبھی ان کو دیکھ پاؤ تو سوچ لینا کہ ان میں ہر برگ کی نمو میں زیاں گیا عرق شاخ گل کا کبھی یہ سرسبز کونپلیں تھے کبھی یہ شاداب بھی رہے ہیں کھلے ہوئے ہونٹ کی طرح نرم اور شگفتہ بہت دنوں تک یہ سبز پتے ہوا کے ریلوں میں بے بسی سے تڑپ چکے ہیں مگر یہ اب خشک ہو رہے ہیں مگر یہ اب خشک ہو چکے ہیں اگر کبھی اس طرف سے گزرو تو دیکھ لینا برہنہ شاخیں ہوا کے دل میں گڑھی ہوئی ہیں یہ اب تمہارے لیے نہیں ہیں نہیں ہیں
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا