فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

اب سو جاؤ

اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سو بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انہیں بھلا دو سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو اچھا تو کوئی اور بھی تھی اچھا پھر بات کہاں نکلی کچھ اور بھی یادیں بچپن کی کچھ اپنے گھر کے آنگن کی سب بتلا دو پھر سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی یہ جھلمل کرتی خاموشی یہ ڈھلتی رات ستاروں کی بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

— فہمیدہ ریاض

یہ زرد موسم کے خشک پتے

یہ زرد موسم کے خشک پتے ہوا جنہیں لے گئی اڑا کر اگر کبھی ان کو دیکھ پاؤ تو سوچ لینا کہ ان میں ہر برگ کی نمو میں زیاں گیا عرق شاخ گل کا کبھی یہ سرسبز کونپلیں تھے کبھی یہ شاداب بھی رہے ہیں کھلے ہوئے ہونٹ کی طرح نرم اور شگفتہ بہت دنوں تک یہ سبز پتے ہوا کے ریلوں میں بے بسی سے تڑپ چکے ہیں مگر یہ اب خشک ہو رہے ہیں مگر یہ اب خشک ہو چکے ہیں اگر کبھی اس طرف سے گزرو تو دیکھ لینا برہنہ شاخیں ہوا کے دل میں گڑھی ہوئی ہیں یہ اب تمہارے لیے نہیں ہیں نہیں ہیں

— فہمیدہ ریاض

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

— احمد فراز