سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
پیر ارشد
حسن شبیر
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
خواجہ اشرف
راجا اکرام قمر
سید جینٹلمین
ظفر نقوی
عباس نقوی
علی
مرزا جواد
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا پھر ہم ہیں نیم شب ہے اندیشۂ عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا
ایک لڑکی سی
سنگ دل رواجوں کی یہ عمارت کہنہ اپنے آپ پر نادم اپنے بوجھ سے لرزاں جس کا ذرہ ذرہ ہے خود شکستگی ساماں سب خمیدہ دیواریں سب جھکی ہوئی گڑیاں سنگ دل رواجوں کے خستہ حال زنداں میں اک صدائے مستانہ ایک رقص رندانہ یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے یہ اسیر شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے