فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا پھر ہم ہیں نیم شب ہے اندیشۂ عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا

— فہمیدہ ریاض

ایک لڑکی سی

سنگ دل رواجوں کی یہ عمارت کہنہ اپنے آپ پر نادم اپنے بوجھ سے لرزاں جس کا ذرہ ذرہ ہے خود شکستگی ساماں سب خمیدہ دیواریں سب جھکی ہوئی گڑیاں سنگ دل رواجوں کے خستہ حال زنداں میں اک صدائے مستانہ ایک رقص رندانہ یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے یہ اسیر شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے

— فہمیدہ ریاض