فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

عباس نقوی کا پیش کردہ کلام

پتھر کی زبان

اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھا یہی بلندی ہے وصل تیرا یہی ہے پتھر مری وفا کا اجاڑ چٹیل اداس ویراں مگر میں صدیوں سے، اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں پھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹے ہوا کے وحشی بہاؤ پر اڑ رہا ہے دامن سنبھالا لیتی ہوں پتھروں کو گلے لگا کر نکیلے پتھر جو وقت کے ساتھ میرے سینے میں اتنے گہرے اتر گئے ہیں کہ میرے جیتے لہو سے سب آس پاس رنگین ہو گیا ہے مگر میں صدیوں سے اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں اور ایک اونچی اڑان والے پرند کے ہاتھ تجھ کو پیغام بھیجتی ہوں تو آ کے دیکھے تو کتنا خوش ہو کہ سنگریزے تمام یاقوت بن گئے ہیں دمک رہے ہیں گلاب پتھر سے اگ رہا ہے

— فہمیدہ ریاض

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہے یہ نخل خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤں یہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں اے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ہے ہاں اس کے تعاقب سے مرے دل میں ہے انکار وہ شخص کسی کو نہ ملے گا نہ ملا ہے کیوں نور ابد دل میں گزر کر نہیں پاتا سینے کی سیاہی سے نیا حرف لکھا ہے

— فہمیدہ ریاض