سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
بیٹھا ہے میرے سامنے وہ
بیٹھا ہے میرے سامنے وہ جانے کسی سوچ میں پڑا ہے اچھی آنکھیں ملی ہیں اس کو وحشت کرنا بھی آ گیا ہے بچھ جاؤں میں اس کے راستے میں پھر بھی کیا اس سے فائدہ ہے ہم دونوں ہی یہ تو جانتے ہیں وہ میرے لیے نہیں بنا ہے میرے لیے اس کے ہاتھ کافی اس کے لیے سارا فلسفہ ہے میری نظروں سے ہے پریشاں خود اپنی کشش سے ہی خفا ہے سب بات سمجھ رہا ہے لیکن گم سم سا مجھ کو دیکھتا ہے جیسے میلے میں کوئی بچہ اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہے اس کے سینے میں چھپ کے روؤں میرا دل تو یہ چاہتا ہے کیسا خوش رنگ پھول ہے وہ جو اس کے لبوں پہ کھل رہا ہے یا رب وہ مجھے کبھی نہ بھولے میری تجھ سے یہی دعا ہے
کچھ لوگ
دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیں لیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں ایسے ہی سفر کرتے کرتے اک شخص ملا ہم کو بھی کہیں دنیا میں اچھے لوگ بہت لیکن اس کی سی بات نہیں وہ دھیمے لہجے والا تھا اور دھیرے سے ہنستا تھا جتنے بھی لوگ ملے ہم کو سچ جانو سب سے اچھا تھا تھی لاگ نہ اس کے بولوں میں کی بات نہ کوئی لگاوٹ کی اس کے فقرے ٹوٹے ٹوٹے اس کی آنکھیں کھوئی کھوئی کہہ کر ہی نہ دے جو ہم چاہیں سوچا ہی کرے بیٹھا بیٹھا پر دیکھے ایسی نرمی سے اک بار تو ہو جائے دھوکا گو ساتھ ہمارا خوب رہا اس کو نہ ہوئی پہچان بہت گر بوجھ لے دل کی بات کبھی ہو جاتا تھا حیران بہت اور ہم اس کی حیرانی پر شرمندہ ہو کر رہ جاتے کچھ اور ہمارا مطلب تھا پھر دیر تلک یہ سمجھاتے اب چہرہ اس کا اجلا ہو یا آنکھیں اس کی ہوں گہری یا اس کے پیارے ہونٹوں کی ہر بات لگے ٹھہریःٹھہری کچھ اچھے لوگ جو اچھے ہوتے ہیں اور راہوں میں مل جاتے ہیں ہیں ان کو اپنے کام بہت کب اپنا وقت گنواتے ہیں کب پیاسے پیاسے رہتے ہیں کب جی کو روگ لگاتے ہیں