زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

فاران وڑائچ کا پیش کردہ کلام

عشق سر پہ سوار تھا یارو

عشق سر پہ سوار تھا یارو حسن پر میں نثار تھا یارو ٹوٹتا ہے بدن جو اترا ہے عشق تھا یا بخار تھا ایک پتھر تھا زور سے لگا تھا بھیڑ میں کوئی یار تھا یارو جب میں اجڑا تھا پھول کھل رہے تھے کیا وہ موسم بہار تھا یارو دھندلا تھا جدائی کا منظر میں زرا اشک بار تھا یارو کیسے ملتی غریب کو جنت اس کے سر پہ ادھار تھا یارو مر گیا دل میں کس سے بات کروں دل مرا راز دار تھا یارو اس گلی میں تھے ایک سو بیمار وہ اکیلا انار تھا یارو

— زبیر قلزم