زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

حسن سید کا پیش کردہ کلام

بے خودی بے حساب کی میں نے

بے خودی بے حساب کی میں نے اب کہ شبنم شراب کی میں نے سارے بھنورے چمن چلے آئے اک کلی جب گلاب کی میں نے آپ کے رنگ اڑ رہے ہیں کیوں زندگی خود خراب کی میں نے وہ جو محفل سے اٹھ کے جاتے ہیں بات کوئی جناب کی میں نے؟ ہجر ' تنہائی اور اب وحشت خیر سے ہم رکاب کی میں نے تشنگی تو برا ہی مان گئی جب تمناء آب کی میں نے کیا عجب ہے کہ خاک کے پیچھے اپنی ہستی تراب کی میں نے وصل کی کر کہ آرزو قلزم زندگانی عذاب کی میں نے

— زبیر قلزم