زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

میں زمینی میں آسمانی ہوں

میں زمینی میں آسمانی ہوں میں محبت میں جاودانی ہوں دیکھ لو اب کبھی سنو گے مجھے میں ہی کردار میں کہانی ہوں ڈھونڈتے ہو عمارتوں میں اسے وہ جو کہتا میں لا مکانی ہوں زندگی مت کہو مجھے اپنی جان جاں دیکھ رائگانی ہوں یوں نہ برباد کر خدا کے لیے ہوش کر میں تری جوانی ہوں آؤ باتیں کرو کہو دل کی چاندنی رات ہوں سہانی ہوں پیٹھ پیچھے برا کہوں کیسے اے مرے یار خاندانی ہوں یہی بہتر ہے مجھ سے دور رہو اک مصیبت ہوں نا گہانی ہوں وصل کی بھیک مانگ کر قلزؔم اس کے پہلو میں پانی پانی ہوں

— زبیر قلزم

کس کی آخر یہ انتطاری ہے

کس کی آخر یہ انتطاری ہے رات اس سوچ میں گزاری ہے دن کہاں رہ گیا خدا جانے کون سی رات ہم پہ طاری ہے کیوں ہے دل میرا لینے سے انکار آپ کی تو دکانداری ہے اک طمانچے سے عقل آ جاتی وقت کا ہاتھ کتنا باری ہے بن گیا ہے رقیب قاصد بھی اس نے بھی اپنی جان واری ہے پھر بھلا چین ہم کہاں پائیں تیرے پہلو میں بے قراری ہے ہیں جبینیں تو اپنی سجدوں میں اور شیطان سے بھی یاری ہے چوم کر ماتھا بیٹیا رانی کا سارے دن کی تھکن اتاری ہے ساٹھ سالوں کا پوچھتے ہو حساب کیا بتائیں میاں کہ خواری ہے

— زبیر قلزم