سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
میں زمینی میں آسمانی ہوں
میں زمینی میں آسمانی ہوں میں محبت میں جاودانی ہوں دیکھ لو اب کبھی سنو گے مجھے میں ہی کردار میں کہانی ہوں ڈھونڈتے ہو عمارتوں میں اسے وہ جو کہتا میں لا مکانی ہوں زندگی مت کہو مجھے اپنی جان جاں دیکھ رائگانی ہوں یوں نہ برباد کر خدا کے لیے ہوش کر میں تری جوانی ہوں آؤ باتیں کرو کہو دل کی چاندنی رات ہوں سہانی ہوں پیٹھ پیچھے برا کہوں کیسے اے مرے یار خاندانی ہوں یہی بہتر ہے مجھ سے دور رہو اک مصیبت ہوں نا گہانی ہوں وصل کی بھیک مانگ کر قلزؔم اس کے پہلو میں پانی پانی ہوں
کس کی آخر یہ انتطاری ہے
کس کی آخر یہ انتطاری ہے رات اس سوچ میں گزاری ہے دن کہاں رہ گیا خدا جانے کون سی رات ہم پہ طاری ہے کیوں ہے دل میرا لینے سے انکار آپ کی تو دکانداری ہے اک طمانچے سے عقل آ جاتی وقت کا ہاتھ کتنا باری ہے بن گیا ہے رقیب قاصد بھی اس نے بھی اپنی جان واری ہے پھر بھلا چین ہم کہاں پائیں تیرے پہلو میں بے قراری ہے ہیں جبینیں تو اپنی سجدوں میں اور شیطان سے بھی یاری ہے چوم کر ماتھا بیٹیا رانی کا سارے دن کی تھکن اتاری ہے ساٹھ سالوں کا پوچھتے ہو حساب کیا بتائیں میاں کہ خواری ہے