زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا

سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا دل لگائے گا کسی سے تو یا مر جائے گا زیب تم کو نہیں دیتی یہ نبھا کی باتیں تم کو عادت نہیں اس کی تو مکر جائے گا تیری نسلوں سے محبت نہ کرے کوئی بھی ان میں بھی تیری جفاؤں کا اثر جائے گا میں نے سوچا تھا بہت اور بہت سوچا تھا یہ نہ سوچا تھا مرے دل سے اتر جائے گا ساقیا اور پلا بات بڑے دکھ کی ہے دل مرا ساتھ مرے آج بھی گھر جائے گا یار یہ قصے وفاؤں کے نہ سنا مجھ کو دیکھ غصے میں نشہ سارا اتر جائے گا جس کی میت پہ بٹا کھانا'مرا ہے بھوکا اور احسان یہ مرحوم کے سر جائے گا دیکھ نم آنکھوں کے رستے نہ اتر تو دل میں ڈر ہے اس بات کا تو ڈوب کے مر جائے گا دل کے ہاتھوں میں پریشان بہت ہوں قلزم دل تو بچہ ہے سجن چھوڑ سدھر جائے گا

— زبیر قلزم