زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے

مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے یعنی سارے جہان کا دکھ ہے بارشوں کی خوشی ہے ایک طرف اپنے کچے مکان کا دکھ ہے عشق گرد سفر رہا لیکن جو ہوئی اس تھکان کا دکھ ہے یہ محبت دلوں کا سودا تھا جو دیا اس لگان کا دکھ ہے عمر ہے پالوں دکھ محبت کا اور مجھے خاندان کا دکھ ہے عشق یہ تم نے کیسے مارا اسے مرنے والے کی شان کا دکھ تم نہیں بانٹ سکتے مرا دکھ یار یہ ٹوٹے مان کا دکھ ہے تیری خاطر جلایا تھا جو ہاتھ ٹھیک ہے بس نشان کا دکھ ہے جس میں نقصان تک نہ ہو قلزم ہائے ایسی دکان کا دکھ ہے

— زبیر قلزم

بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا

بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا کتا بتائیں تجھے کا تماشہ ہوا دل مچلتا روکتا میں رہا دل سے جھگڑا مرا بے تحاشہ پارساؤں سے حوریں ہیں سہمی ہوئی دلبروں کا جہنم ٹھکانہ ہوا ہیں محبت سے خالی لکریں مری معجزہ آپ سے دل لگانا ہوا آج تک یاد ہے ان کو تل تھا کہاں جب کہ بچھڑے ہوئے اک زمانہ ہوا جو چلے آؤ تم تو ہمیں بھی لگے لوگ کہتے ہیں موسم سہانا ہوا ان کو جنت ملے گی خدا کی قسم یہ محبت تو جن کا ترانہ ہوا وقت نے چاند کی شکل تبدیل کی غور کر چاند بھی روٹی جیسا ہوا

— زبیر قلزم