سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے
مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے یعنی سارے جہان کا دکھ ہے بارشوں کی خوشی ہے ایک طرف اپنے کچے مکان کا دکھ ہے عشق گرد سفر رہا لیکن جو ہوئی اس تھکان کا دکھ ہے یہ محبت دلوں کا سودا تھا جو دیا اس لگان کا دکھ ہے عمر ہے پالوں دکھ محبت کا اور مجھے خاندان کا دکھ ہے عشق یہ تم نے کیسے مارا اسے مرنے والے کی شان کا دکھ تم نہیں بانٹ سکتے مرا دکھ یار یہ ٹوٹے مان کا دکھ ہے تیری خاطر جلایا تھا جو ہاتھ ٹھیک ہے بس نشان کا دکھ ہے جس میں نقصان تک نہ ہو قلزم ہائے ایسی دکان کا دکھ ہے
بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا
بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا کتا بتائیں تجھے کا تماشہ ہوا دل مچلتا روکتا میں رہا دل سے جھگڑا مرا بے تحاشہ پارساؤں سے حوریں ہیں سہمی ہوئی دلبروں کا جہنم ٹھکانہ ہوا ہیں محبت سے خالی لکریں مری معجزہ آپ سے دل لگانا ہوا آج تک یاد ہے ان کو تل تھا کہاں جب کہ بچھڑے ہوئے اک زمانہ ہوا جو چلے آؤ تم تو ہمیں بھی لگے لوگ کہتے ہیں موسم سہانا ہوا ان کو جنت ملے گی خدا کی قسم یہ محبت تو جن کا ترانہ ہوا وقت نے چاند کی شکل تبدیل کی غور کر چاند بھی روٹی جیسا ہوا