زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

زندگانی حسین ہے تو سہی

زندگانی حسین ہے تو سہی مان لوں گا کہیں دکھے تو سہی میں تو جی لوں مگر یہ دل میرا جینے کی آرزو کرے تو سہی دیکھ لینا یہیں کہیں ملے گی راز جنت کبھی کھلے تو سہی کام آئے گا کار انسانی یہ تماشائے کن رکے تو سہی عین ممکن میں احتجاج کروں پھر سے دنیا نئی بنے تو سہی مجھ کو جو کہتا ہے برا وہ شخص کبھی آئے مجھے ملے تو سہی صبر آ جائے گا مجھے قلزؔم جانے والا کہیں مرے تو سہی

— زبیر قلزم