زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ثناجاوید کا پیش کردہ کلام

بے خودی بے حساب کی میں نے

بے خودی بے حساب کی میں نے اب کہ شبنم شراب کی میں نے سارے بھنورے چمن چلے آئے اک کلی جب گلاب کی میں نے آپ کے رنگ اڑ رہے ہیں کیوں زندگی خود خراب کی میں نے وہ جو محفل سے اٹھ کے جاتے ہیں بات کوئی جناب کی میں نے؟ ہجر ' تنہائی اور اب وحشت خیر سے ہم رکاب کی میں نے تشنگی تو برا ہی مان گئی جب تمناء آب کی میں نے کیا عجب ہے کہ خاک کے پیچھے اپنی ہستی تراب کی میں نے وصل کی کر کہ آرزو قلزم زندگانی عذاب کی میں نے

— زبیر قلزم

شوق اپنے سبھی نرالے ہیں

شوق اپنے سبھی نرالے ہیں سانپ خود آستیں میں پالے ہیں چار پیسے لگیں غریب کے ہاتھ اس طرح غم ترے سنبھالے ہیں تم مکیں تو نہیں ہو قبروں کے کیوں زباں پر پڑے یہ تالے ہیں ہو رہے سب عیاشیوں کی ہی نذر میرے بچوں کے جو نوالے ہیں تیرے دل میں جگہ کہاں پاتے ہم وہ جنت سے جو نکالے ہیں اس تری چپ پہ آسماں والے بد گماں ہم زمین والے ہیں روشنی سے مہک بھی آئے گی خوں جلا کر کیے اجالے ہیں

— زبیر قلزم