سپیکرز
ثناجاوید کا پیش کردہ کلام
بے خودی بے حساب کی میں نے
بے خودی بے حساب کی میں نے اب کہ شبنم شراب کی میں نے سارے بھنورے چمن چلے آئے اک کلی جب گلاب کی میں نے آپ کے رنگ اڑ رہے ہیں کیوں زندگی خود خراب کی میں نے وہ جو محفل سے اٹھ کے جاتے ہیں بات کوئی جناب کی میں نے؟ ہجر ' تنہائی اور اب وحشت خیر سے ہم رکاب کی میں نے تشنگی تو برا ہی مان گئی جب تمناء آب کی میں نے کیا عجب ہے کہ خاک کے پیچھے اپنی ہستی تراب کی میں نے وصل کی کر کہ آرزو قلزم زندگانی عذاب کی میں نے
شوق اپنے سبھی نرالے ہیں
شوق اپنے سبھی نرالے ہیں سانپ خود آستیں میں پالے ہیں چار پیسے لگیں غریب کے ہاتھ اس طرح غم ترے سنبھالے ہیں تم مکیں تو نہیں ہو قبروں کے کیوں زباں پر پڑے یہ تالے ہیں ہو رہے سب عیاشیوں کی ہی نذر میرے بچوں کے جو نوالے ہیں تیرے دل میں جگہ کہاں پاتے ہم وہ جنت سے جو نکالے ہیں اس تری چپ پہ آسماں والے بد گماں ہم زمین والے ہیں روشنی سے مہک بھی آئے گی خوں جلا کر کیے اجالے ہیں