زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوں

سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوں غم ہوا میں اچھال دیتا ہوں مرنا لازم ہو کیسے جیتے ہیں آؤ تم کو کمال دیتا ہوں وہ مجھے ہجر سونپ جاتا ہے جس کسی کو وصال دیتا ہوں عشق آتاہے روز میرے گھر روز گھر سے نکال دیتا ہوں بات کوئی کرے جو گرگٹ کی اس کو تیری مثال دیتا ہوں بھول جاتا ہوں تلخ باتیں مگر تلخ لہجہ سنبھال دیتا ہوں سخت بیزار زندگی سے اور موت آئے تو ٹال دیتا ہوں

— زبیر قلزم