زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

سبدہ گل کا پیش کردہ کلام

ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہے

ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہے پیار تو کرنا ہے اظہار نہیں کرنا ہے حسن کے آگے یہ دل ہار گیا ہوں لیکن مجھ کو اس ہار کا اقرار نہیں کرنا ہے تیر نظروں کا چلاؤ یہ اجازت ہے تمہیں شرط ہے تیر جگر پار نہیں کرنا ہے دل کی حسرت ہے عجب سامنے آئے اک دن سامنے آئے تو دیدار نہیں کرنا ہے سخت منکر ہیں محبت کے مگر سوچتے ہیں وہ اگر پوچھے تو انکار نہیں کرنا ہے آپ کے واسطے ہی در یہ کھلے گا جو کھلا گھر کو گھر رکھنا ہے بازار نہیں کرنا ہے حسرتیں پھندہ بنیں حرج نہیں ہے قلزؔم اس کی بانہوں کو کبھی ہار نہیں کرنا ہے

— زبیر قلزم

دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے

دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے پھر یہ دن جھومے رات رقص کرے جب حسیں شخص محو رقص ہوا یوں لگا کائنات رقص کرے میں نے یہ بات کر کے دیکھا ہے اس کی ہر ایک بات رقص کرے وہ کرے وادات آنکھوں سے اور پھر واردت رقص کرے اس کے گھر ایک دو شجر ہیں میاں جن کا ہر پات پات رقص کرے وصل ایک لمحہ مل جائے میری ساری حیات رقص کرے ہے عجب کھیل یہ محبت بھی جیت پھر جیت مات رقص کرے موت آئے تو سامنے وہ ہو چاہتا ہوں وفات رقص کرے عشق ایسا ہو کہ وہاں اس کی اور یہاں میری ذات رقص کرے

— زبیر قلزم