سپیکرز
سبدہ گل کا پیش کردہ کلام
ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہے
ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہے پیار تو کرنا ہے اظہار نہیں کرنا ہے حسن کے آگے یہ دل ہار گیا ہوں لیکن مجھ کو اس ہار کا اقرار نہیں کرنا ہے تیر نظروں کا چلاؤ یہ اجازت ہے تمہیں شرط ہے تیر جگر پار نہیں کرنا ہے دل کی حسرت ہے عجب سامنے آئے اک دن سامنے آئے تو دیدار نہیں کرنا ہے سخت منکر ہیں محبت کے مگر سوچتے ہیں وہ اگر پوچھے تو انکار نہیں کرنا ہے آپ کے واسطے ہی در یہ کھلے گا جو کھلا گھر کو گھر رکھنا ہے بازار نہیں کرنا ہے حسرتیں پھندہ بنیں حرج نہیں ہے قلزؔم اس کی بانہوں کو کبھی ہار نہیں کرنا ہے
دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے
دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے پھر یہ دن جھومے رات رقص کرے جب حسیں شخص محو رقص ہوا یوں لگا کائنات رقص کرے میں نے یہ بات کر کے دیکھا ہے اس کی ہر ایک بات رقص کرے وہ کرے وادات آنکھوں سے اور پھر واردت رقص کرے اس کے گھر ایک دو شجر ہیں میاں جن کا ہر پات پات رقص کرے وصل ایک لمحہ مل جائے میری ساری حیات رقص کرے ہے عجب کھیل یہ محبت بھی جیت پھر جیت مات رقص کرے موت آئے تو سامنے وہ ہو چاہتا ہوں وفات رقص کرے عشق ایسا ہو کہ وہاں اس کی اور یہاں میری ذات رقص کرے