زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی

ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی نہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھا تو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی اٹھائے پھر رہا ہوں لاش اپنی مری مجھ سے ہلاکت ہو گئی تھی یہ کیسے تم نے بدلی ہے بتاؤ تمہیں بھی میری عادت ہو گئی تھی میں جب تک لوٹا اپنے پاس تب تک مرے اندر بغاوت ہو گئی تھی اجل آئی ہے میں صدقے میں واری اذیت میری قسمت ہو گئی تھی بچھڑتے وقت یہ بھی دکھ تھا قلزم وہ کتنی خوبصورت ہو گئی تھی

— زبیر قلزم

اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن

اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن اوڑلی پھر یہ میں نے ردائے سخن چاہتا تھا مجھے لوگ شاعر کہیں اس کی دہلیز سے پھر اٹھائے سخن اس نے آنچل کو لہرایا ہے پھر ضرور دیکھیے تو چلی ہے ہوائے سخن جیسے کوئی حسیں ناز سے بیٹھتی ایسے پہلو میں اپنے بٹھائے سخن کیا بتاؤں میں کیسے خدوخال ہیں اس کی زلفوں پہ سارے لٹائے سخن اس کی آواز ایسی مرے دوستا ہر سخن کر رہا التجائے سخن جس کسی کی میں امید تھا معذرت کچھ نہیں کر سکا میں سوائے سخن جب کسی طور بھی یار مانا نہیں باندھ پیروں میں گھنگرو نچائے سخن جس پہ فتویٰ لگا تھا اسی شعر پر داد دینے کو آئے خدائے سخن وہ نہیں گنگناتا سخن کوئی بھی دیکھ کر اس کو تو گنگنائے سخن مفلسی نے کیا حال ایسا مرا تنگ آ کر سبھی بیچ کھائے سخن اس نے پڑھ کر کیے شعر میرے امر شاعروں نے بڑے آزمائے سخن وصل کی رات تھی اور دیکھو زرا صرف بستر پہ میں نے گرائے سخن ہل کسی کی زمین پر چلایا نہیں میں نے اپنی زمین پہ اگائے سخن ایک شاعر سے اس کو محبت ہوئی سارے کمرے میں اس نے لگائے سخن ساری محفل کی نظریں اسی پر جمیں اس نے پڑھ کر مرے جب سنائے سخن کوئی قلزم کو کب جانتا تھا یہاں آج جو کچھ بھی ہوں ہے عطائے سخن

— زبیر قلزم